لالو نے چھٹی کروا دی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی دار الحکومت دلّی میں پانچ سو ریل ملازمین کو کام پر دیر سے آنے کی وجہ سےگھر واپس بھیج دیا گیا ہے۔ بھارت کے ریل وزیر لالو پرساد یادو نے ریلوے کے مرکزی دفاتر کے معائنے کے دوران یہ حکم جاری کیا۔ پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق لالو پرساد یادو نے کہا کہ وہ صبح ساڑھے نو بجے دفتر پہنچے اور اس کے بعد دفتر کا دروازہ بند کرنے کا حکم دیا۔ جو بھی دیر سے دفتر پہنچا اسے دروازے پر ہی روک لیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق 2319 میں سے تقریباً بیس فیصد ملازم کام پر دیر سے پہنچے اور مسٹر یادو کے ’غیض و غضب‘ کا نشانہ بنے۔ مسٹر یادو نے کہا کہ وہ اس قسم کی لاپرواہی بالکل برداشت نہیں کریں گے اور وہ اس طرح کے معائنے جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ دیر سے آنے کے عادی ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ مسٹر یادو نے دیر سے آنے والے ملازمین کی ایک دن کی تنخواہ کاٹنے کا بھی حکم دیا ہے۔ مسٹر یادو بھارت کے سب سے رنگین مزاج اور متنازعہ سیاست دانوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ریلوے وزیر بننے کے بعد انہوں نے حکم دیا تھا کہ بھارتی ریلوں میں پینے کے لیے شربت وغیرہ پلاسٹک کے بجائےمٹی سے بنے پیالوں میں دیے جائیں گے۔ ان کے مطابق اس سے بھارت کی چھوٹے درجے کی صنعتوں کو فروغ ملے گا اور ماحول میں بہتری آئےگی۔ مگر کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ انہوں نے یہ حکم صرف غریب ترین طبقے کو خوش کرنے کے مقصد سے دیا تھا اور ملک میں اتنے کمہار ہی نہیں ہیں جو اتنے سارے مٹی کے پیالے بنا سکیں گے۔ مسٹر یادو کا تعلق بھارتی ریاست بہار سے ہے اور ان کی کامیابی کافی حد تک علاقے کے غریب ووٹروں کی حمایت کا نتیجہ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||