BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 11 June, 2004, 16:49 GMT 21:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پردے میں رہنے دو

وزیرِریلوے کا ایک اور روپ
پہچان پر ہے ناز تو پہچان جائیے
لالو پرساد اب پاپڑ بیچیں گے، قلی کا کام کریں گے یا شاید کسی ریلوے اسٹیشن پر ٹکٹ کاؤنٹر سنبھال لیں۔

ہندوستان کے چھوٹے بڑے ریلوے اہل کار آجکل اس بات پہ سخت پریشان نظر آتے ہیں کہ نہ معلوم ریلوے کے وزیر اچانک کب اور کس بھیس میں آ دھمکیں۔

اس ماہ کے شروع میں جب وہ بغیر اطلاع کے دہلی ریلوے جنکشن کا معائنہ کرنے کے لئے وارد ہو گئے تو ہر طرف کھلبلی مچ گئی تھی۔

پیشگی اطلاع کے بغیر دفتروں کے اچانک معائنے کی روائت تو پاک و ہند میں ہر جگہ پائی جاتی ہے لیکن بھیس بدل کر رعایا کے حالات معلوم کرنے کا رواج صرف قدیم زمانے کے نیک دل بادشاہوں میں پایا جاتا تھا۔

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ خود لالو پرساد اس بات کی تردید کر چکے ہیں کہ وہ کوئی سوانگ رچا کر اپنے محکمے کا جائزہ لینا چاہتے ہیں لیکن ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ یار لوگ اس تردید کو بھی لالو پرساد کا ایک ’دامِ ہمرنگِ زمیں‘ قرار دے رہے ہیں۔

بھیس بدلنے کا ڈرامہ ریلوے کی اسٹیج تک پہنچتا ہے یا نہیں، یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن جو احکامات نئے وزیرِ ریلوے نے پہلے ہی صادر کر دئے ہیں انھیں کون جھٹلا سکتا ہے۔

انہی احکامات میں سے ایک یہ ہے کہ ریلوے میں چائے پلانے کے لئے پلاسٹک کے کپ کی جگہ آب خورہ یا ’ٹھوٹھی‘ یعنی مٹی کی پیالی استعمال کی جائے جسے مقامی طور پر کلہڑ کہا جاتا ہے۔

چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنا چونکہ انگریزی محاورہ ہے اور لالو جی کو انگریزی میں کوئی خاص دلچسپی نہیں، اس لئے انھوں نے کُلھڑ میں ہلُڑ مچانے کو ترجیح دی ہے۔

لالو جی نے ریلوے ملازمین کے لئے بھی مِل کے کپڑے کی جگہ کھادی کا لباس تجویز کیا ہے۔ ان احکامات سے کوزہ گر یا نور باف برادری خوش ہو یا نہ ہو، کمھار اور جولاہے بہت مسرور دکھائی دیتے ہیں۔

لالو جی کے ان عوام دوست اقدامات کے بعد اب کئی حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ریلوے میں کولڈ ڈرنکس کی جگہ لسّی اور ستّو فروخت کرنے کا اہتمام کیا جائے۔

ان تمام احکامات سے قطعِ نظر نئے ریلوے وزیر کے کچھ بیانات ایسے بھی ہیں جنھیں مبصرین سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ ان میں سرِ فہرست ان کا یہ بیان ہے کہ وہ گودھرا ریل حادثے کی فائیل کا از سرِنو مطالعہ کریں گے۔

ریلوے وزیر کا عہدہ سنبھالتے ہی لالو جی نے اعلان کیا تھا کہ اب مسافر بِلا خوف و خطر ٹرینوں میں سفر کر سکیں گے لیکن خود ان کی ریاست گواہ ہے کہ ریل گاڑیوں میں قتل اور ڈکیتی کی وارداتیں بڑھتی جا رہی ہیں۔

لالو جی نے یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ اب ٹرینیں وقت پر روانہ ہوا کریں گی لیکن عام مشاہدے میں آیا ہے کہ دس بیس گھنٹے کی تاخیر آج بھی معمول کی بات ہے۔

لالو جی کی ایک کوشش کو البتّہ عوام بہت سنجیدگی سے لے رہے ہیں یعنی یہ کہ ریل کا کرایہ نہ بڑھنے پائے۔

بڑھتی ہوئی عمومی مہنگائی کے تناظر میں یہ ایک بہت بڑی چنوتی ہے اور خطرات سے کھیلنے والے لالو پرساد یادو اس چیلنج سے کسطرح نمٹتے ہیں، یہ آئندہ چند ہفتوں کے اندر معلوم ہو جائے گا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد