’جیلوں میں موبائیل فون بندہونا چاہیے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں سپریم کورٹ نے جیلوں میں موبائيل فون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے سخت احکامات جاری کیے ہیں۔ کورٹ نے کہا ہے کہ تمام سینٹرل جیلوں میں ایسی ٹیکنالوجی نصب کی جائے جس سے جیل کے اندر موبائیل فون کے استعمال کو پوری طرح ناکام بنایا جاسکے۔ سپریم کورٹ کے دوججوں پر مشتمل ایک بینچ نے موبائیل سروس آپریٹر بھارت سنچار نگم لمیٹڈ (بی ایس این ایل) اور ریلائینس کمپنی سے کہا ہے کہ وہ اس ماہ کی گیارہ تاریخ تک یہ بتائیں کہ کون سی ایسی ٹیکنالوجی جیلوں میں نصب کی جائے جس سے موبائیل فون اسکے احاطے میں کام نہ کرسکیں۔ عدالت عظميٰ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ’اس طرح کی کئی مثالیں سامنے آئی ہیں کہ زیادہ اثر رسوخ والے اور طاقتور افراد جیلوں میں قید ہوتے ہوئے بھی موبائیل فون کا بے جا استعمال کرتے ہیں۔ ملک کی تمام جیلوں میں اسکو پوری طرح بند کیا جانا چاہیے اور اس کے لیے تمام جیلوں میں جامرس (فون کو ناکام بنانے والی خصوصی مشین) نصب کی جانی چاہیے‘۔ عدالت نے یہ فیصلہ پارلیمنٹ کے ایک رکن پّپو یادو کے مقدمے کی سماعت کے بعد دیا ہے۔ پّپو یادو غیر قانونی طور پر جیل میں موبائیل فون کے استعمال کےمرتکب پائے گۓ تھے ۔ پپو یادو کا تعلق لالو پرساد یادو کی جماعت راشٹریہ جنتا دل سے ہے ۔ ان پر کئی مجرمانہ مقدمات ہیں جس کے سبب وہ بیور سینٹرل جیل میں قید ہیں۔ اس معاملے میں سی بی آئی کے وکیل نے پپو یادو کو ریاست بہار سے باہر کسی دوسری جیل میں منتقل کرنے پر زور دیا ہے اور انہیں جنوبی ہندوستان کی سینٹرل جیلوں میں سے کسی ایک میں منتقل کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||