BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 17 December, 2004, 13:35 GMT 18:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جیلوں میں موبائل فون: پولیس پریشان

موبائل فون
موبائل فون کی وجہ سے جرائم پیشہ افراد کا سراغ مشکل ہوگیا ہے
ایک زمانے میں فلم شعلے کا یہ ڈائیلاگ بہت مشہور ہوا تھا جس میں ایک حیران و پریشان پولیس افسر کہتا ہے ’ہماری جیل میں سرنگ‘۔ ان دنوں بہار میں پولیس سرنگ کے بدلے موبائل فون سے پریشان ہے اور عدالت سے لے کر سیاسی حلقوں تک جرائم سے متعلق سب سے زیادہ بحث جیل میں موبائل کے استعمال پر ہو رہی ہے۔

آئی جی ایڈمنسٹریشن نیل منی کہتے ہیں کہ جرائم پیشہ افراد میں موبائل فون کا استعمال کافی سنجیدہ چیلنج کی شکل میں سامنے آیا ہے۔ پہلے لینڈ لائن فون یا تحریری شکل میں تاوان کی رقم مانگی جاتی تھی تو مجرموں کا سراغ لگانا آسان ہوتا تھا۔ اب یہ مشکل ہو گیا ہے کیوں کہ اکثراوقات موبائل کنیکشن کے لۓ دیے گۓ پتے فرضی ہوتے ہیں۔

گزشتہ دنوں پٹنہ ہائی کورٹ کے حکم پر ریاست کی مختلف جیلوں میں جب چھاپے مارے گۓ تو ضبط ہونے والے سامان کی فہرست میں کنڈوم تک تھے مگر سب سے زیاد ہ ہنگامہ لالو پرساد کی پارٹی آر جے ڈی کے ایم پی پپّو یادو کے پاس سے برآمد ہونے والے فون پر ہوا جو پولیس ذرائع کے مطابق انہوں نے اپنے جوتے میں چھپا رکھا تھا۔پپو یادو فی الوقت قتل کے ایک مقدمے میں جیل میں ہیں۔

جیلوں میں موبائل رکھنے پر پابندی کے باوجود پپو کے ہاں سے ملنے والے موبائل فون کے بارے میں خود پپو کے حوالے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مذکورہ فون انکی بہن کا ہے جو غلطی سے انکے پاس رہ گیا تھا۔ بہر حال پٹنہ ہائی کورٹ نے پپو کے ہاں سے ملنے والے فون کی آؤٹ گوئنگ اور ان کمنگ کالز کی تفصیل طلب کر لی ہے۔

ہائی کورٹ نے اس کے ساتھ ریاست میں موبائل کمپنیوں کے کنکشن دینے کے طریقہ کار کے بارے میں بھی تفصیلات مانگی ہیں۔ اسکے علاوہ یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ موبائل کنیکشن دینے سے قبل صارفین کی پولیس رپورٹ لی جاۓ۔

بہار میں جیلوں کے اندر موبائل فون کے مجرمانہ استعمال کے حوالے سے گو کہ چرچا پپو یادو کی وجہ سے ہوا حقیقت یہ ہے کہ جرائم پیشہ افراد کے لیے یہ ایک نیا اور محفوظ آلۂ کار بن گیا ہے۔

اغواء کی واردات کے لیے سب سے زیادہ بدنام بگہہ اور بیتیا علاقوں میں حال ہی میں ایک ڈاکٹر کو جیل کے اندر سے موبائل پر تاوان کی دھمکی کا معاملہ بھی ہائی کورٹ پہنچ گیا۔ اس دھمکی کی خبر دینے والے نامہ نگار وکاس بہاری سنگھ کو بھی کورٹ نے طلب کیا تھا۔ وکاس بہاری سنگھ کہتے ہیں کہ چوری یا چھینے گۓ فون سے بھی جرائم پیشہ اپنی شناخت پوشیدہ رکھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

حال ہی میں نیشنل ہائڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن کے جن دو انجینیروں کا اغواء ہوا تھا انکے گھر تاوان کا مطالبہ انہیں انجینیروں کے موبائل سے کیا گیا تھا جس کی وجہ سے پولیس کے لیے مجرموں تک رسائی مشکل ہوگئی تھی۔

اس امر کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ کچھ معاملوں میں پولیس موبائل فون کے پرنٹ آؤٹ سے کئی مجرموں کو پکڑنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کی کامیابی کی شرح بہت کم ہے۔

جیل آئی جی دیپک کمار سنگھ کا کہنا ہے کہ جیلوں کے اندر موبائل فون کے استعمال کو روکنے کے لیے جیمر (jammer ) لگانے کی کوشش کی گئی مگر اس میں کامیابی نہیں ملی۔ جیلوں میں کئی چھاپے بھی مارے گئے۔ پٹنہ صدر کے ڈی ایس پی ضیاالدین احمد نے بتایا کہ لاکھ کوشش کے باوجود جیل اسٹاف کی ملی بھگت سے وہاں ممنوعہ چیزیں پہنچ جا تی ہیں۔ ایسے میں جیمر ایک بہتر مانع ثابت ہو سکتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ موبائل کے غلط استعمال کو دیکھتے ہوۓ ضروری ہو گیا ہے کہ اسکے کنیکشن دینے میں بھی وہی ضوابط اپنائے جائیں جو بندوق وغیرہ کے لائسنس دینے میں استعمال ہوتے ہیں۔

دیپک سنگھ کہتے ہیں کہ ریاستی حکومت کارگر جیمر لگانے کے لیے کوشاں ہے۔ اسکے لیے مرکزی حکومت کے ادارے بی ای ایل سے تعاون کی درخواست کی گئی ہے۔

عدالت اور پولیس کی کوششیں اپنی جگہ لالو پرساد اس سلسلے میں قدرے مختلف خیال رکھتے ہیں۔

انکاکہنا ہے کہ ایسی کوئی مشین نہیں بنی جس سے یہ ثابت ہو جائے کہ کس نے کس جگہ سے فون کیا ہے۔

ریلوے کے سابق وزیر اور جنتا دل یونائٹیڈ کے رہنما نیتیش کمار اس سلسلےمیں ریاستی حکومت کی برطرفی کا مطالبہ کر چکے ہیں۔انکا الزام ہے کہ جیل میں قید جرائم پیشہ افراد موبائل فون کے ذریعہ اغواء اور دوسری وارداتوں میں ملوث ہوتے ہیں۔

آئندہ چند دنوں میں ہائی کورٹ اس سلسلے میں کئی معاملات کا فیصلہ کرنے والی ہے اور ممکن ہے کہ حکمراں آر جے ڈی کے لیے اس میں کئی پریشان کن
باتیں سامنے آئیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد