اظہار یکجہتی 24 وزرا کااستعفی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اوما بھارتی سے وفاداری اور یک جہتی کا ثبوت دیتے ہوئے مدھیہ پردیش کے 24 وزرا نے اپنا استعفی بھارتیہ جنتا پارٹی کے حوالے کردیا ہے۔ مدھیہ پردیش کی وزیر اعلی اوما بھارتی کے وارنٹ کے بعد آئندہ 24 گھنٹوں میں انکی گرفتاری یقینی بتائی جاتی ہے۔ مدھیہ پردیش کے زراعت کے وزیر گوپال بھارگو نے کہا ”یہ ہمارا اولین اور اخلاقی فرض ہے کہ جب ہماری وزیر اعلی استعفی دے چکی ہیں تو ہم بھی استعفی دے دیں” ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک ترجمان نے کہا کہ” اتنے سارے وزرا کا ایک ساتھ استعفی ان کے غصے کا صاف اظہار ہے کہ وہ ناراض ہیں کہ ترنگے جھنڈے کو لہرانا کوئی جرم نہیں ہے۔” اسی دوران یہ بھی خبر ہے کہ اوما بھارتی کل مدھیہ پردیش کی وزارت اعلی کے عہدے سے استعفی دے رہی ہیں اور انہوں نے کابینہ کے ساتھیوں سے استعفی نہ دینے کو کہا ہے۔ ہفتے کو اوما بھارتی نے اپنا استعفی بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر وینکیا نائیڈو کے سپرد کردیا تھا۔ اب پیر کو پارٹی کے پارلیمانی بورڈ کی ایک اہم میٹنگ میں اس کا فیصلہ ہونے والا ہے۔ اوما بھارتی کے خلاف ہبلی کی ایک عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے۔ یہ مقدمہ 15 اگست 1994 کو عدالت میں پیش کیاگیا تھا۔ یہ مقدمہ بھارتی ریاست کرناٹک کے ضلع ہبلی ہی میں ایک عید گاہ پر ہونے والے حملے کے بعد اوما بھارتی اور دیگر 21 لوگوں کے خلاف درج کیا گیا تھا۔ دریں اثنا یہ قیاس بھی کیا جارہا ہے کہ اوما بھارتی کی جگہ پارٹی کسی اور کو وزیر اعلی بنائے گی۔ اس طرح ایک تیر سے دو نشانے لگاتےہوئے حزب اختلاف کی یہ بڑی جماعت حکمران پارٹیوں کے ایسے وزرا کو جو پہلے ہی دباؤ میں ہیں گھیرے میں لینا چاہتی ہے۔ اوما بھارتی کی جگہ پر شیو راج سنگھ چوہان کو وزیر اعلی بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ جنہیں سابق نائب وزیر اعظم لال کرشنا اڈوانی کا مکمل اعتماد حاصل ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||