BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 19 November, 2004, 16:43 GMT 21:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بھارت سے مذاکرات جاری رہیں گے‘

News image
وزیرِاعظم شوکت عزیز نے کہا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے بھارت کے ساتھ جامع مذاکرات یا (composite dialogue) کا سلسلہ جاری رہے گا۔

جمعہ کی رات ریڈیو اور ٹیلی وژن نیٹ ورک پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے شوکت عزیز نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی رائے کے مطابق کشمیر کے مسئلے کے حل کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی خطے میں امن کے قیام کے لیے ہے اور اسے جاری رکھا جائے گا۔

شوکت عزیز نے آدھے گھنٹے سے زیادہ دیر جاری رہنے والی اپنی تقریر میں یہ بھی کہا کہ پاکستان کا ایٹمی اور میزائل پروگرام بہت تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور یہ محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ وزیرِ اعظم نے یہ اعلان بھی کیا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف سے قرضوں کا رشتہ ہمیشہ کے لیے توڑ دیا ہے اور اس ماہ آئی ایم سے ملنے والی قرضے کی دو قسطیں شکریے کے ساتھ واپس کر دی گئی ہیں۔

شوکت عزیز کے خطاب سے کچھ گھنٹے پہلے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا تھا کہ بھارت کی طرف سے ملنے والے اشارے حوصلہ افزا نہیں ہیں۔

شوکت عزیز نے عدلیہ میں اصلاحات اور پولیس قوانین میں چند تبدیلیوں کا بھی اعلان کیا۔ ججووں کی مراعات اور تنخواہوں میں اضافہ کیا جار ہا ہے اور ان کی تعداد بڑھائی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ کمرشل کورٹ کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا۔

پولیس کے قانون میں تبدیلی کے لیے شوکت عزیز نے جن تین اقدامات کا اعلان کیا وہ یہ ہیں۔ غلط ایف آئی آر سے متاثر ہونے والا شہری براہِ راست قانونی کارروائی کر سکے گا، محض شبہے کی بنا پر اعلیٰ سطح سے اجازت کے بغیر کسی کو گرفتار نہیں کیا جا سکے گا اور جو پولیس اہلکار غیر ایماندارانہ کارروائی کرے گا اسے سزا دی جائے گی۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ عورتوں کی جلد ضمانت کے لیے بھی قانون میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں اور پولیس میں اصلاحات کے لیے ضروری ہوا تو پارلیمان میں بھی قانون سازی کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو بہتر اسلحہ دیا جائے گا اور اسے زیادہ فعال بنانے کے لیے اضافی وسائل بھی دیئے جائیں گے۔

حزبِ اختلاف کی مجوزہ احتجاجی تحریک کا ذکر کیے بغیر شوکت عزیز نے کہا کہ اپوزیشن کو تمام اختلافات پارلیمان کے فلور پر حل کرنے چاہئیں اور ہنگامہ آرائی کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ’میں تمام سیاسی جماعتوں کو دعوت دیتا ہوں کہ کہ مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔‘

انہوں نے کہا کہ حکومت وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر تعلقات چاہتی ہے اور چھوٹے صوبوں کے احساسِ محرومی کو ختم کیا جائے گا۔ بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لیے پہلے سے بنی ہوئی کمیٹی کی سفارشات کو مدِنظر رکھا جائے گا۔ اہم قومی امور بشمول ڈیموں کی تعمیر کے لیے تمام فیصلے قومی اتفاقِ رائے سے کیے جائیں گے۔

شوکت عزیز نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے روشن خیالی اور میانہ روی کا جو نظریہ پیش کیا ہے وہ ملک کو درپیش چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے ضروری ہے۔

وزیرِاعظم نے معاشی ترقی کے لیے زراعت، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں، انفارمیشن اور ہاؤسنگ اور متعلقہ شعبوں میں بہتری لانے کے لیے بھی مختلف اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان سے ملک میں سبز انقلاب آجائے گا۔انہوں نے کہا کہ آئندہ حکومت خود چھوٹی صنعتوں کے قیام کے لیے بنکوں کو ضمانت فراہم کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان معاشی ڈپلومیسی کے ذریعے عالمی منڈیوں کو تلاش کر کے وہاں تک رسائی حاصل کرے گا۔

وزیرِاعظم شوکت عزیز نے کہا کہ خوشحال پاکستان کی سکیم کو دوبارہ شروع کیا جارہا ہے اور سرکاری محکموں کو ہدایت کر دی گئی ہے کہ خالی آسامیاں پر کی جائیں تاکہ بے روزگاری کم ہو سکے۔ شوکت عزیز نے فائل کلچر کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں جلد اہم فیصلے ہوں گے۔

انہوں نےاعلان کیا کہ اگلے پانچ برس میں آٹھ لاکھ ان پڑھ افراد کو تعلیم دی جائے گی اور بالخصوص دیہات میں لوگوں کی تعلیم پر توجہ دی جائے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد