شوکت عزیز نئے وزیراعظم منتخب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی قومی اسمبلی میں حکمران جماعت کے امیدوار شوکت عزیز 191 ووٹ لے کر نئے قائد ایوان منتخب ہوگئے ہیں جبکہ حزب اختلاف نے اپنے امیدوار جاوید ہاشمی کو ایوان میں پیش نہ کرنے کے خلاف انتحاب کا بائیکاٹ کردیا۔ جمعہ کی شام قومی اسمبلی کے اجلاس میں قائد ایوان کے لیے حزب اختلاف کے جیل میں بند امیدوار جاوید ہاشمی کو ایوان میں پیش نہ کرنے کے خلاف حزب اختلاف نے ایوان میں سخت احتجاج کیا اور نعرے بھی لگائے۔ اجلاس مقررہ وقت سے تقریبا ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا لیکن حزب اختلاف کے اراکین پیپلز پارٹی کے جھنڈے، بینظیر بھٹو اور جاوید ہاشمی کی تصاویر بھی لہراتے رہے۔اجلاس سے قبل اور دوران پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے اراکین ’گو مشرف گو، جعلی سپیکر نامنظور، فراڈ الیکشن نامنظور اور لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی‘ سمیت مختلف نعرے لگاتے رہے۔ ایوان سے باہر جاتے ہوئے جب حزب اختلاف کے اراکین نے ’امپورٹیڈ وزیراعظم شوکت بش، نامنظور کے نعرے لگائے تو شوکت عزیز ان کی طرف دیکھ کر مسکراتے رہے۔ ایوان میں جعلی سپیکر نامنظور کے نعروں پر سپیکر خاموشی سے سنتے رہے لیکن پریس گیلری میں قہقہے پڑتے رہے۔ تلاوت و ترجمے کے بعد اوئے اوئے کی آوازیں دیتے ہوئے حزب اختلاف کے کئی اراکین نشستیں چھوڑ کر سپیکر کے سامنے روسٹرم کے آگے کھڑے ہوکر نعرے لگاتے رہے۔ ایک موقع پر جب سپیکر نے شوکت عزیز کی کامیابی کا اعلان نہیں کیا تھا لیکن اس کے باوجود بھی وہ قائد ایوان کی نشست پر بیٹھ چکے تھے جس پر چند منٹ قبل چودھری شجاعت حسین براجمان تھے۔ شوکت عزیز سنیچر کو پاکستان کے نئے وزیراعظم کے طور پر حلف اٹھائیں گے جس کے بعد ایوان سے اعتماد کا ووٹ لیں گے۔جبکہ کابینہ فیصل صالح حیات کے مطابق آئندہ ہفتے حلف اٹھائے گی۔ شوکت عزیز نے کامیابی کے بعد ایوان سے خطاب میں صدر جنرل پرویز مشرف، مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کی رائے کے مطابق حل کرنے کی پالیسی جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ اس موقعہ پر حکومتی اتحاد کے اور رہنماؤں نے بھی حظاب کیا اور شوکت عزیز کو مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کی سربراہی میں ملک ترقی کرے گا اور ملک سے غربت اور بیروزگاری کا خاتمہ ہوگا۔ قبل ازیں حزب احتلاف کی جانب سے مسلم لیگ نواز کے رہنما چودھری نثار علی خان کی درخواست جس میں قائد ایوان کے انتحاب کے لیے ان کے امیدوار مخدوم جاوید ہاشمی کو اسمبلی میں پیش کرنے کا کہا گیا تھا ، اس کی سپیکر نے سماعت کے بعد مسترد کردی تھی۔ مخدوم جاوید ہاشمی بغاوت کے ایک مقدمے میں قید کاٹ رہے ہیں۔ انہوں نے سزا کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے جو زیرِ سماعت ہے۔ پاکستان میں پہلی بار کوئی جیل سے وزارتِ عظمیٰ کا امیدوار نامزد ہوا تھا۔ چھبیس جون کو اس وقت کے وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی نے استعفیٰ دیا تھا اور اس کے بعد چودھری شجاعت حسین نے انتیس جون کو نئے وزیراعظم کے طور پر حلف اٹھایا اور اب وہ بھی مستعفی ہوگئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||