BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 22 August, 2004, 10:37 GMT 15:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اے آر ڈی پھر اختلافات کا شکار

مخدوم امین فیہم
مخدوم امین فیہم ایک بار پھر وزارت عظمی کے عہدے کے امیدوار ہیں۔
پاکستان کی قومی اسمبلی میں نئے قائد ایوان کے انتخاب کے لیے حکمران جماعت مسلم لیگ کے امیدوار شوکت عزیز کے مقابلے میں حزب اختلاف کے اتحاد ’اے آر ڈی، متفقہ امیدوار لانے پر اختلافات کا شکار ہو گیا ہے ۔

اتحاد برائے بحالی جمہوریت یعنی ’اے آر ڈی، میں شامل دونوں بڑی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرینز اور پاکستان مسلم لیگ نواز نے اپنی اپنی جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں کو شوکت عزیز کے مقابلے میں نامزد کر رکھا ہے۔

پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی سید نوید قمر نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ ان کی جماعت نے مخدوم امین فہیم کو نامزد کردیا ہے۔ جبکہ مسلم لیگ نواز کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات صدیق الفاروق کے مطابق انہوں نے مبینہ طور پر بغاوت کے مقدمے میں قید کی سزا کاٹنے والے رہنما جاوید ہاشمی کو قائد ایوان کے انتخاب میں امیدوار نامزد کیا ہوا ہے۔

مسلم لیگ نواز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ چودھری شجاعت حسین کے قائد ایوان کے انتخاب کے وقت اتحاد کی جانب سے پیپلز پارٹی باری لے چکی ہے لہٰذا اب وہ وسعت قلبی کا مظاہرہ کرئے اور ’اے آر ڈی، کے پارلیمانی لیڈر مخدوم جاوید ہاشمی کو متفقہ امیدوار بنایا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ اس ضمن میں مسلم لیگ نواز کے رہنما چودھری نثار علی خان نے مخدوم امین فہیم سے ملاقات بھی کی ہے۔ وہ پرامید تھے کہ اس بار پیپلز پارٹی ان کے امیدوار کی حمایت کرے گی۔

اس ضمن میں جب اتحاد کے سربراہ مخدوم امین فہیم سے پوچھا گیا تو انہوں نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ چودھری نثار علی ان سے ملے تھے اور انہیں پیپلز پارٹی کے فیصلے سے مطلع کیا گیا اور ابتدائی طور پر متفقہ امیدوار لانے پر بات بھی ہوئی تھی، تاہم حتمی فیصلہ قائد ایوان کے انتخاب سے قبل کردیا جائے گا۔

ایک سوال پر مخدوم امین فہیم کا کہنا تھا کہ یہ سیاسی اور جمہوری معاملہ ہے اور کوئی ’ملاکھڑا، نہیں جس میں باریاں لگیں کہ ایک مرتبہ ہم اور دوسری مرتبہ وہ امیدوار بنیں۔

مسلم لیگ نواز کے ترجمان کے مطابق ان کے نامزد امیدوار کی حمایت حزب اختلاف کا ایک اور اتحاد متحدہ مجلس عمل جس میں چھ دینی جماعتیں شامل ہیں، کر رہا ہے اور اس طرح متحدہ حزب اختلاف کی جانب سے ان کے نامزد رہنما ایک مضبوط امیدوار ہوں گے۔

مجلس عمل کی جانب سے مسلم لیگ نواز کے امیدوار کی حمایت کے متعلق سوال پر پیپلز پارٹی کے رہنما مخدوم امین فہیم نے کہا کہ مولوی ابتدا سے ’اے آر ڈی، میں دراڑیں ڈالنا چاہتے ہیں اور پہلے بھی وہ کوششیں کرچکے ہیں۔

یاد رہے کہ دو ماہ قبل چودھری شجاعت کے قائد ایوان کے انتخاب کے وقت بھی مجلس عمل نے اب کی طرح اپنا امیدوار نامزد نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے مسلم لیگ نواز کو ان کے قید رہنما جاوید ہاشمی کی حمایت کا یقین دلایا تھا اور ’اے آر ڈی، میں اختلاف رائے پیدا ہوگیا تھا لیکن عین وقت پر مسلم لیگ نے پیپلز پارٹی کی بات مان لی تھی۔

تاحال مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی والے اپنی اپنی نامزدگیوں پر ڈٹے ہوئے ہیں اور اگر ’اے آر ڈی، دونوں مخدوموں سے کسی ایک پر اتفاق نہ کیا تو اتحاد کے ٹوٹ جانے کا خدشہ ہوگا۔

اگر ’اے آر ڈی، کی دونوں جماعتوں میں سے کسی ایک نے اپنے امیدوار کو دستبردار نہیں کیا تو اس صورت میں مسلم لیگ نواز کا امیدوار پیپلز پارٹی کے امیدوار سے مجلس عمل کی وجہ سے زیادہ ووٹ بھی لے سکتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد