BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 August, 2004, 08:03 GMT 13:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جاوید ہاشمی اے آر ڈی کےمتفقہ امیدوار

جاوید ہاشمی
مخدوم جاوید ہاشمی پر بغاوت کا مقدمہ ہے
پاکستان کی قومی اسمبلی میں نئے قائد ایوان کے انتخاب کے لیے حکومتی امیدوار شوکت عزیز کے مقابلے میں حزب اختلاف کے اتحاد’ اے آر ڈی‘ نے مخدوم جاوید ہاشمی کو امیدوار نامزد کردیا ہے۔

یہ فیصلہ خاصے بحث مباحثے کے بعد جمعرات کی صبح اتحاد برائے بحالی جمہوریت یعنی’اے آر ڈی‘ کے اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت مخدوم امین فہیم نے کی۔

حزب اختلاف کے اس اتحاد کی دونوں بڑی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرینز اور مسلم لیگ نواز نے ترتیب وار مخدوم امین فہیم اور مخدوم جاوید ہاشمی کو اپنا امیدوار نامزد کر رکھا تھا۔

قومی اسمبلی میں نئے قائد ایوان کے انتخاب کے لیے آج کاغذات نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ تھی اور جمعرات کی شام کو بلائے گئے اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں انتخاب ہوگا۔

مسلم لیگ نواز کے مرکزی رہنما جاوید ہاشمی اس وقت حکومت کے قائم کردہ بغاوت کے ایک مقدمے میں ملنے والی سزا کاٹ رہے ہیں، جس کے خلاف انہوں نے اپیل بھی دائر کر رکھی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ سزا کی بنیاد پر جاوید ہاشمی کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جاسکتے ہیں اور اگر ایسا ہوا تو پیپلز پارٹی کے رہنما سید نوید قمر کے مطابق ’اے آر ڈی، قائد ایوان کے انتخاب کا بائیکاٹ کرے گی۔

قائد ایوان کے انتخاب کے لیے صرف شوکت عزیز اور جاوید ہاشمی نے ہی کاغذات نامزدگی داخل کیے ہیں اور اگر ہاشمی کے کاغذات درست قرار دیے گئے تو ’ون ٹو ون‘ مقابلہ ہوگا۔ اس صورت میں بھی عددی اکثریت کے اعتبار سے شوکت عزیز کے ہی کامیابی کے امکانات واضع نظر آتے ہیں۔

مسلم لیگ نواز کے سیکریٹری اطلاعات صدیق الفاروق کے مطابق قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے مخدوم جاوید ہاشمی کی بطور رکن اسمبلی چھٹی کی درخواست دو دن قبل منظور کی تھی۔ ان کے بقول اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ رکن اسمبلی ہیں اور قائد ایوان کے انتخاب میں حصہ لے سکتے ہیں اور ان کے کاغذات نامزدگی مسترد نہیں کیے جاسکتے۔

انہوں نے بتایا کہ جاوید ہاشمی سے پہلے ہی مسلم لیگ نواز نے کاغذات نامزدگی پر دستخط کر الیے ہیں اور ان کے تین نامزدگی فارم داخل کیے جارہے ہیں۔

مسلم لیگ کے سیکریٹری اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ حزب اختلا ف کے مذہبی جماعتوں کے اتحاد’متحدہ مجلس عمل‘ نے جاوید ہاشمی کی حمایت کا یقین دلایا ہے کیونکہ انہوں نے اپنا کوئی امیدوار نامزد نہیں کیا۔

مجلس عمل کے رہنما لیاقت بلوچ نے بتایا کہ انہیں حمایت سے اختلاف نہیں البتہ حتمی فیصلہ جمعہ کو وہ اپنی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جاوید ہاشمی کی نامزدگی سے حزب احتلاف کے دونوں بڑے اتحادوں میں تعاون کا ایک موقعہ فراہم کیا ہے۔

یاد رہے کہ بدھ کے روز اٹھاون دن وزیراعظم رہنے کے بعد چودھری شجاعت حسین مستعفی ہوگئے تھے اور اب نئے قائد ایوان کا انتخاب ہو رہا ہے۔ چھبیس جون کو اس وقت کے وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی نے استعفیٰ دیا تھا اس کے بعد چودھری شجاعت حسین نے انتیس جون کو نئے وزیراعظم کے طور پر حلف اٹھایا اور اب وہ بھی مستعفی ہوگئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد