بغاوت مقدمہ: سزا کی تفصیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلم لیگ (ن) کے صدر جاوید ہاشمی پر بغاوت کے مقدمے میں ضابطہ فوجداری کی سات دفعات کے تحت جو مقدمہ داخل ہوا تھا اس میں ہر شق کے تحت ان کو علیحدہ علیحدہ سزا دی گئی ہے۔ جاوید ہاشمی کے وکیل سید کشور بخاری نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ دفعہ ایک سو اکتیس جو کہ بغاوت کے متعلق ہے اس کے تحت ان کے مؤکل کو سات سال قید با مشقت اور دس ہزار روپے جرمانہ کیا گیا ہے۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں دو ماہ کی اضافی قید بھگتنی ہوگی۔ ضابطہ فوجداری کی شق ایک سو چوبیس اے کے تحت جوحکومت کے خلاف نفرت پھلانے کے متعلق ہے ہاشمی کو تین سال قید، دس ہزار روپے جرمانہ اور جرمانے کی عدم ادائگی پر دو ماہ مزید جیل میں رہنا پڑے گا۔ بخاری کے مطابق دفعہ چار سو اڑسٹھ کے تحت جوکہ سرکاری دستاویزات میں جعلسازی کے متعلق ہے انہیں چار سال قید اور پانچ ہزار روپے جرمانہ کیا گیا ہے۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں ایک ماہ مزید قید کاٹنی ہوگی۔ جعلسازی کی ایک اور شق چار سو انتہر کے تحت دو سال قید دو ہزار روپے جرمانہ اور جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں پندرہ دن مزید قید کاٹنی ہوگی۔ وکیل کے مطابق ایک اور شق چار سو اکہتر جعلی دستاویز استعمال کرنے کے متعلق ہے۔ اس کے تحت بھی چار سال قید، پانچ ہزار روپے جرمانہ اور جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں ایک ماہ مزید قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ بغاوت کے مقدمے کی شق پانچ سو جوکہ فوج کو بدنام کرنے کے متعلق ہے اس میں ایک سال قید پانچ ہزار روپے جرمانہ اور عددم ادائگی کی صورت میں ایک ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ بغاوت کے مقدمے کی ساتویں شق پانچ سو پانچ اے جوکہ فوج کو بغاوت کے لئے اکسانے اور فوج میں نفرت پھلانے کے متعلق ہے اس کے تحت دو سال قید اور پانچ ہزار روپے جرمانہ کیا گیا ہے جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں ایک ماہ قید بھگتنی ہوگی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||