جاوید ہاشمی کو تئیس سال قید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی ایک عدالت نے اتحاد برائے بحالی جمہوریت ’اے آر ڈی‘ اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما جاوید ہاشمی کو بغاوت کے مقدمے میں سات سال قید با مشقت کی سزا سنائی ہے جبکہ سات مختلف مقدمات میں مجموعی طور پر انہیں تئیس سال قید کی سزا ہوئی ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ و سیشن جج چودھری اسد رضا نے پیر کے روز یہ سزا سنائی ۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہاشمی پر فوج کے خلاف نفرت پھیلانے کا الزام ثابت ہو گیا ہے۔ گزشتہ سال کے آخر میں ہاشمی نے پارلیمنٹ کے کیفے ٹیریا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران دعوٰی کیا تھا کے ان کو فوج کے مونوگرام والے لیٹر ہیڈ پر فوجی حکمرانوں کے خلاف ایک خط موصول ہواہے۔ انہوں نے خط کی کاپی اخبار نویسوں کو فراہم بھی کی تھی جس میں جنرل مشرف اور ان کے ساتھی جرنیلوں پر ملک لوٹنے اور بدعنوانی کے سنگین الزامات عائد کئے گئے تھے۔ حکومت نے جاوید ہاشمی کو پارلیمنٹ لاجز میں واقع ان کی رہائش گاہ سے انتیس اکتوبر کو گرفتار کیا تھا اور اس وقت سے وہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ مسلم لیگی رہنما کے خلاف داخل بغاوت کے مقدمے کی سماعت بھی حفاظتی انتظامات کے پیش نظر جیل کے اندر خصوصی عدالت لگا کر کی گئی اور سنیچر دس اپریل کو فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ ہاشمی کے وکلا نے سزا کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل داخل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جیل میں حکومت نے مقدمے کی سماعت کے دوران صحافیوں کو کارروائی سننے اور دیکھنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ بی بی سی نے ٹرائل کورٹ سے اجازت بھی لے لی لیکن حکومت نے لاہور ہائی کورٹ سے یہ کہہ کر حکم امتناعی حاصل کیا تھا کہ اگر بی بی سی کو اجازت دی تو دیگر صحافیوں کو بھی اجازت دینی پڑے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||