| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہاشمی گرفتاری: کیوں، کب، کیسے؟
اے آر ڈی کے صدر و پارلیمانی لیڈر مخدوم جاوید ہاشمی کا خدشہ آخرکار درست ثابت ہوا اور انکو گرفتار کرلیاگیا۔ مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر جاوید ہاشمی نے اس خدشے کا اظہار انتیس اکتوبر بروز بدھ افطار کے موقعہ پر پریس کانفرنس کے دوران کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں ایسے اشارے ملے ہیں کہ حکومت ان پر بغاوت کا جھوٹا مقدمہ بنا کر انہیں گرفتار کرنا چاہتی ہے اور ان کا یہ کہنا درست ثابت ہوا اور ان کی اس پریس کانفرنس کے چند ہی گھنٹوں بعد بڑی تعداد میں پولیس اور سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے واقع پارلیمنٹ لاجز کے بلاک ایف کے لاج نمبر ایک سو چھ سے انہیں گرفتار کرنے پہنچ گئے۔ مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری اطلاعات صدیق الفاروق کے مطابق رات ساڑھے دس بجے جب جاوید ہاشمی اپنی لینڈکروزر میں ڈرائیور عبدالغفور کے ہمراہ باہر جانے کیلئے گاڑی میں بیٹھے تو لاجز کی چاردیواری سے باہر جانے والا گیٹ بند تھا۔ جاوید ہاشمی نے گاڑی موڑی اور لاجز میں داخل ہونے والے گیٹ سے نکلنے کی کوشش کی تو تین گاڑیوں نے ان کی گاڑی کا راستہ روک لیا اور اسلام آباد پولیس کے اور دوسرے سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں نے جاوید ہاشمی کو ساتھ چلنے کے لیے کہا۔ جاوید ہاشمی نے انکار کیا تو انہیں زبردستی پکڑکر ایک لینڈکروزر میں بٹھاکر نامعلوم مقام پر لےگئے۔ صدیق الفاروق کے مطابق ان کے ڈرائیور کو اس دوران کچھ اہلکار دیوار کی طرف منہ کراکے کھڑا کیا اور بعد میں تھپڑ مارکر چھوڑ دیا۔
ہاشمی کی گرفتاری کےبعد ان کی بیٹی میمونہ ہاشمی جو خود بھی رکن اسمبلی ہیں رات گئے ہنگامی پریس کانفرنس بلائی اور اپنے والد کی گرفتاری کا الزام آئی ایس آئی پر لگایا۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اسلام آباد نے رات گئے ایک پریس نوٹ جاری کیا جس میں ضابطہ فوجداری کی دفعات 131 ، 500، 500 اے،469 ،471، 124اے، 468 اور 109 کے تحت گرفتار کرنے کی تصدیق کی۔ پریس نوٹ میں کہا گیا کہ ایک شہری خورشید احمد کی درخواست پر ہاشمی کو گرفتار کیا گیا ہے۔ صدیق الفاروق کا دعوٰی ہے کہ خورشید احمد اسٹیبلشمنٹ کا آدمی ہے۔
پارلیمنٹ لاجز یوں تو تھانہ سیکریٹریٹ کی حدود میں واقع ہیں لیکن پریس نوٹ میں ذکر نہیں ہے کہ کس تھانے پر مقدمہ ہوا ہے۔ جب تھانہ سیکریٹریٹ سے رابطہ کیا گیا تو محرر نے کہا کہ انہیں علم نہیں کہ ان کے تھانے میں مقدمہ درج ہوا ہے یا نہیں۔لیکن صدیق الفاروق کا کہنا ہے کہ مقدمہ تھانہ سیکریٹریٹ میں درج ہوا ہے اور ان کی اطلاع کے مطابق ایف آئی آر مہر بند کردی گئی ہے۔ جاوید ہاشمی کو کہاں رکھا گیا ہے اس ضمن میں بھی متضاد اطلاعات ہیں پولیس اور انتظامیہ کچھ بھی بتانے کیلئے تیار نہیں۔ ایک اطلاع ہے کہ سی ڈی اے کےایک ریسٹ ہاؤس میں انہیں رکھا گیا ہے۔ ہاشمی کی گرفتاری کی حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کے رہنماؤں نے شدید مدمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ڈرایا دھمکایا نہیں جاسکتا نہ ہی ایل ایف او کے خلاف احتجاجی تحریک کو خاموش کیا جا سکتا ہے۔ حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کے رہنما جمعرات کی صبح ہاشمی کے لاج پر جمع ہوئے اور جلوس کی شکل میں ’نو مشرف نو، گو مشرف گو، ہاشمی کی گرفتاری نا منظور، جاوید ہاشمی زندہ باد اور ایک بہادر آدمی جاوید ہاشمی‘ کے نعرے لگاتے ہوئے اور مارچ کرتے ہوئے پارلیمنٹ ہاؤسں پہنچے۔ پولیس نے انہیں دیکھ کر مین گیٹ بند کردیا تاہم بعد میں انتظامیہ نے صرف ارکان پارلیمنٹ کو اندر جانے دیا۔ بعد ازاں محمود خان اچکزئی، رضاربانی، راجہ پرویز اشرف، چودھری نثار علی خان، راجہ نادر پرویز اور دیگر سپیکر قومی اسمبلی سے ملے اور ان پر زور دیا کہ وہ ہاشمی کو جمعہ 31 اکتوبر کے قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کرنے کا حکم جاری کریں۔
سپیکر قومی اسمبلی چودھری امیر حسین نے حزب اختلاف کے رہنماؤں کو یقین دلایا کہ وہ کوشش کریں گے کہ انہیں ایوان میں بلائیں جس پر حزب اختلاف کے رہنماؤں نے احتجاج کیا کہ کوشش نہیں حکم جاری کریں یہ سپیکر کا اختیار ہے ماضی میں بھی سھیل اصغر کوقتل کے مقدمے کا ملزم ہوتے ہوئے بھی پیش کیا جاتا رہا ہے۔ حزب اختلاف کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ لاجز سپیکر کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں اور لاجزسے سپیکر کی اجازت کے بغیر گرفتاری انکے اختیارات میں مداخلت ہے۔ حزب اختلاف کے رہنماؤں نے قومی اسمبلی کےقواعد اور ضوابط کے قاعدہ نمبر نوے کے تحت درخواست دیتے ہوئے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کیلئے کہا جبکہ گرفتاری کے خلاف دو تحاریک جن میں ایک تحریک استحقاق اور دوسری تحریک التویٰ ہے سپیکر کو پیش کی گئی۔ علاوہ ازیں پیپلزپارٹی کے رہنما رضاربانی نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ بدھ کی شب روزہ افطار کرنے کےبعد جب لاجز میں داخل ہوئے تو بڑی تعداد میں پولیس اور سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار لاجز میں موجود تھے انہوں وجہ دریافت کی تو ان کو بتایا گیا کہ وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی لاجز میں کسی کی عیادت کیلئے آرہے ہیں اس لیے سکیورٹی انتظامات سخت کئے گئے ہیں۔ جمعرات کی سہ پہر مسلم لیگ کے رہنماؤں نے صحافیوں کو بتایا کہ جاوید ہاشمی کو ریمانڈ کیلئے کچہری اسلام آباد میں پیش کیا جارہا ہے۔ یہ اطلاع سن کر متعدد صحافی اور فوٹو گرافر کچہری پہنچ گئے لیکن ہاشمی کو نہیں لایا گیا۔ مسلم لیگی رہنماؤں ظفراقبال جھگڑا، سید ظفر علی شاہ، راجہ نادر پرویز اور احسن اقبال سمیت متعدد رہنما بھی کچھری میں موجود تھے اور انہوں نے روزہ بھی کچہری میں افطار کیا۔ رات آٹھ بجے تک جب ہاشمی کو نہیں لایا گیا تو سید ظفر علی شاہ نے پریس کانفرنس کی اور بتایا کہ انہی اطلاع ملی ہے کہ ہاشمی کا پانچ دن کا ریمانڈ انہیں پیش کئے بغیر ہی لے لیا گیا ہے جس کے بعد صحافی کچہری سے چلے گئے۔ جاوید ہاشمی جو کہ فوج پر کافی عرصے سے سخت لہجے میں تنقید کررہے تھے چاہے وہ وزیرستان سمیت قبائلی علاقہ جات میں القاعدہ کے خلاف آپریشن ہو یا دیگر معاملات وہ فوج پر کڑی تنقید کرتےرہے ہیں۔
20 اکتوبر کو انہوں نے ایک خط کیفے ٹیریا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جاری کیا جس پر فوج کا مونو گرام تھا لیکن کسی کے دستخط نہیں تھی۔ ہاشمی کا دعویٰ تھا کہ یہ خط ان سمیت متعدد پارلیمنٹیرینز کو ڈاک کے ذریعے موصول ہوا ہے اور محب وطن فوجیوں نے انہیں بھیجا ہے۔ اس خط میں جنرل مشرف اور ان کے ساتھی جرنیلوں کو لٹیرا کہا گیا اور ان پر فوج اور قوم کو یرغمال بنانے کا الزام لگایا گیا تھا۔ پاکستانی اخبارات یہ خط شائع کرنے سے گریزاں تھے لیکن جب اس خط پر 20 اکتوبر کو ہی سرکاری ترجمان شیخ رشید اور فوجی ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس کو جعلی قرار دیا اور تحقیقات کرنے کا بیان دیا تو اخبارات نے یہ خط انکے تبصروں کے ساتھ شائع کیا۔ جاوید ہاشمی متعدد بار آئینی خلاف ورزی کرنے والے جرنیلوں کے خلاف بغاوت کا مقدمہ دائر کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں انکی گرفتاری کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں مختلف آراء ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ جنرل مشرف اور انکی حکومت ہاشمی کی گرفتاری پر ردعمل جاننا چاہتی ہے جبکہ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ(ن) اور جاوید ہاشمی اس گرفتاری سے مقبول ہوجائیں گے۔ ہاشمی کی گرفتاری کےبعد پیپلزپارٹی کے رہنما اور اتحاد برائے بحالی جمھوریت کے چیئرمین مخدوم امین فہیم نے دبئی جانے کا پروگرام مؤخر کردیا ہے اور جمعہ کی صبح گیارہ بجے اے آر ڈی کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیاہے۔ آج جمعہ کو قومی اسمبلی میں بھی شدید احتجاج ہونے کا امکان ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین راجہ ظفرالحق نے مجلس عاملہ اور پارلیمانی پارٹی کا مشترکہ ہنگامی اجلاس آج جمعہ کو تین بجے طلب کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||