مقدمۂ بغاوت: جاوید ہاشمی پہلے ملزم؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مبصرین نے اے آر ڈی کے رہنما جاوید ہاشمی کی گرفتاری کو ملک کے سیاسی منظر نامہ کا ایک اہم موڑ قرار دیا ہے جس کے دور رس نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ اے آر ڈی کے صدر مخدوم جاوید ہاشمی کے خلاف مقدمہ کے اندراج اور ان کی گرفتاری کے بارے میں قانونی ماہرین نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا اے آر ڈی کی باقی قیادت بھی اس مقدمہ کی زد میں آتی ہے؟ اور کیا حکومت اس کوسیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرے گی؟ جاوید ہاشمی نے پریس کانفرنس میں واضح کیا تھا کہ ’ اس خط کواے آر ڈی کی پارلیمانی پارٹی نے پریس کانفرنس میں پڑھنے کی ہدایت دی تھی اور یہ کہ یہ خط پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی رکن فوزیہ کو ملا تھا اور لفافہ پر بھی انہی کا نام تحریر ہے۔‘ پنجاب پولیس کے شعبہ قانونی امور کے ایک پولیس افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس رائے کا اظہار کیا ہے: ’اگر صرف خط پڑھنا ہی انہیں فوج کو اکسانے اور حکومت کے خلاف نفرت پھیلانے کا ملزم بناتا ہے تو پھر وہ تمام افراد بھی اعانت جرم کے ملزم ہیں جنہوں نے انہیں یہ خط پڑھنے کی ہدایت کی تھی۔‘ سابق وزیر قانون ڈاکٹر خالد رانجھا کی راۓ تھی کہ اعانت جرم کی دفعہ ایک سے زیادہ افراد یا کسی گروہ کے خلاف عائد کی جا سکتی ہے اور اس کی سزا اصل جرم کے برابر ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے مختاراں مائی کیس کا حوالہ دیا جس میں زیادتی کا فیصلہ دینے والے چاروں پنچائتی افراد کو اعانت جرم میں چالان کیا گیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ صرف جاوید ہاشمی کے بیان دے دینےسے کوئی ملزم نہیں بن جاتا بلکہ کوئی غیر جانبدرارنہ شہادت اور ثبوت ضروری ہیں۔ یا پھر پارلیمانی پارٹی یہ کہہ دے کہ اس نے جاوید ہاشمی کو ایسا کرنے کو کہا تھا۔ سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ایسی کوئی بھی صورت جاوید ہاشمی کو تو کوئی رعائت نہیں دلا سکتی البتہ دوسروں کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے۔‘ جاوید ہاشمی بیس اکتوبر کو ہونے والی جس مشترکہ پریس کانفرنس کے نتیجہ میں گرفتار ہوئے اس میں ان کے ہمراہ دیگر رہنماؤں کے علاوہ پیپلز پارٹی کے محمود قریشی اور ایم ایم اے کے لیاقت بلوچ بھی شریک تھے۔ پارلیمانی پارٹی کے اراکین نے ابھی تک جاوید ہاشمی کے اس بیان کی، کہ پارلیمانی پارٹی کی ہدایت پر انہوں نے خط پڑھا تھا، تردید یا تصدیق نہیں کی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پارلیمانی پارٹی اس بات کا اعتراف کرے گی کہ واقعی یہ فیصلہ ہوا تھا اور جاوید ہاشمی نے پارلیمانی پارٹی کے کہنے پر خط پڑھا تھا؟ ان کی گرفتاری سے اگلے روز ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں اے آر ڈی کے رہنما اس سوال کو ٹال گئے تھے۔ اس پریس کانفرنس میں شریک روزنامہ ڈان کے رپورٹر عامر وسیم نے کہا ہے کہ صحافیوں کے اس سوال پر کہ’ کیا واقعی جاوید ہاشمی کو پارلیمانی پارٹی نےخط پڑھنے کو کہا تھا؟‘ رہنماؤں کا جواب تھا کہ ’اس سلسلہ میں فیصلہ آئندہ اجلاس میں کیا جاۓ گا۔‘ اور جب صحافیوں نے کہا کہ اس کا جواب تو ہا ں ناں میں دیا جاسکتا ہے اس کے لیے اجلاس منعقد کرنے کی کیا ضرورت ہے تو رہنما بات ٹال گئے ۔ پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ جاوید ہاشمی کے خلاف یہ مقدمہ ہی غلط ہے باقیوں کے ملوث ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ’ اصل ملزم وہ ہے جس نے بقول حکومت کے یہ جعلی خط بناۓ ہیں۔‘ قانونی ماہرین کے مطا بق اس خط کو تحریر کرنے والا مرکزی ملزم ہے خواہ یہ خط اصلی ہو یا نقلی۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی جانب سے ان کی گرفتاری کے روز جاری ہونے والے ہینڈ آوٹ میں کہا گیا تھا کہ یہ ثابت ہو گیا ہے کہ یہ خط جعلی ہے اور جاوید ہاشمی نے اس کے اصلی ہونے پر اصرار کیا تھا۔ لیکن پریس نوٹ میں اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ جعلی خط بنانے کا الزام کس کے سر ہے۔ حکومت کے وکیل منیر بھٹی سے جب بی بی سی نے یہی سوال کیا کہ کیا اعانت جرم میں دیگر سیاسی رہنماؤں کو بھی ملوث کیا جا سکتا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ وہ تین روز تک اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کریں گے انہوں نے کہا کہ تین روز تک تبصرہ نہ کرنے کی وجوہات ہیں تاہم انہوں نے ان وجوہات کی وضاحت نہیں کی ۔ ادھر ان کی صاحبزادی نے سنیچر کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ہے ان کی حبس بے جا کے خلاف ایک درخواست عدالت عالیہ کے راولپنڈی بنچ میں دائر کر دی گئی ہے جس کی سماعت سوموار کو ہوگی ۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مہربند یہ ایف آئی آر سپریم کورٹ میں دائر کہیں اس درخواست کی مانند تو نہیں جس میں ایم ایم اے کے بیشتر اراکین کی ڈگریوں کو چیلنج کیا گیا ہے اور جس کا تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||