| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
جاوید ہاشمی پر حکومت کو نوٹس
لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ کے جسٹس سردار محمد اسلم نے بغاوت کے مقدمہ میں گرفتار اے آر ڈی کے صدر مخدوم جاوید ہاشمی کے مقدمہ کی جیل میں سماعت اور ضمانتوں سے متعلق دو درخواستوں پر آج حکومت کو نوٹس جاری کردیے۔ تاہم عدالت نے جاوید ہاشمی کی بیٹی میمونہ ہاشمی کی طرف سے دائر کردہ درخواست پر ان کے وکیل لطیف کھوسہ کی یہ استدعا قبول نہیں کی کہ چیف کمشنر اسلام آباد کے جیل میں سماعت کے بارے میں دیے گئے حکم کو معطل کردیا جائے۔ عدالت عالیہ نے کہا کہ چونکہ یہ اہم اور حساس معاملہ ہے اس لیے دوسرے فریق کا موقف سننا ضروری ہے۔ وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت عالیہ سے کہا کہ منتخب رکن قومی اسمبلی اور حزب مخالف کے رہنما جاوید ہاشمی کے خلاف مقدمہ کی جیل میں سماعت غیر انسانی، غیر اخلاقی اور غیر قانونی فعل ہے۔ وکیل نے کہا کہ جس خط کی بنیاد پر جاوید ہاشمی کے خلاف مقدمہ بنایا گیا وہ کوئی حساس معاملہ نہیں اور نہ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات ہے جبکہ جاوید ہاشمی نے حزب مخالف کے قائد کے طور پر اسمبلی کے فلور پر اپنا کردار ادا کیا ہے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ چیف کمشنر کو جیل میں مقدمہ کی سماعت کا حکم جاری کرنے کا قانونی اختیار نہیں ہے اور ایسا کرنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے کیونکہ جیل میں عدالتی ماحول نہیں ہوتا اور کوئی سینیئر وکیل وہاں جانا نہیں چاہتا اور جیل میں سماعت سننے کے لیے صحافی، عوام اور ملزم کے رشتے دار نہیں جا سکتے۔ وکیل نے کہا کہ چیف کمشنر کے جیل میں سماعت سےمتعلق احکامات کو معطل کر کے سیشن کورٹ میں کھلی سماعت کا حکم جاری کیا جائے۔ تاہم جج نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ احکامات جاوید ہاشمی کی حفاظت کے نقطہ نگاہ سے جاری کیے گئے ہوں۔ اس پر وکیل نے کہا کہ انہیں کھلی سماعت سے کوئی خطرہ نہیں اس لیے اس کے احکام جاری کیے جائیں۔ جج نے کہا کہ دوسرے فریق کا موقف جاننا ضروری ہے اس لیے پہلے انہیں بلا کر ان کا جواب حاصل کیا جائے گا۔ دوسری درخواست ضمانت میں وکیل نے عدالت عالیہ سے کہا کہ جاوید ہاشمی نے بیس اکتوبر کو خط صحافیوں کے سامنے پیش کیا وہ چار اکتوبر کو ایک ویب سائٹ پر شائع ہوچکا تھا اور اسے تقیسم کرنا کوئی جرم نہیں بنتا۔ وکیل نے کہا کہ جاوید ہاشمی نے کارگل کے معاملہ پر ایک قومی تحقیقاتی کمیشن بنانے کی بات کی تھی جو کوئی بغاوت نہیں اور زندہ قومیں اپنے ملکی وقار کے معاملوں پر ایسا ہی کیا کرتی ہیں۔ جج محمد اسلم نے آئندہ سماعت کی تاریخ مقرر نہیں کی اور کہا کہ وہ عدالت عالیہ کی چھٹیوں میں عارضی طور پر بینچ پر کام کر رہے ہیں اس لیے نئے جج اگلی سماعت کی تاریخ دیں گے۔ جاوید ہاشمی کو انتیس اکتوبر کو فوج کو بغاوت پر اکسانے کے الزام میں اسلام آباد میں پارلیمینٹ لاجز سے گرفتار کیاگیا تھا اور سیکریٹیریٹ پولیس نے ان کے خلاف ضابطہ فوجداری کی بغاوت کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ عدالت عالیہ کے جج منصور احمد اس سے پہلے جاوید ہاشمی کی حبس بےجا کی رٹ درخواست اور ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں ماتحت عدالت سے رجوع کرنے کا کہا تھا۔ بعد میں ماتحت عدالت نے بھی ضمانت کی درخواست مسترد کردی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||