BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 30 October, 2003, 17:04 GMT 22:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پنجاب اسمبلی: کارروائی کا بائیکاٹ

پنجاب اسمبلی
اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات لگائے گئے

پنجاب اسمبلی میں حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے جمعرات کے روز مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر جاوید ہاشمی کی گرفتاری پر ڈیڑھ گھنٹے تک ایوان میں شدید احتجاج کیا اور اس کے بعد جنرل مشرف کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے اسمبلی کی کارروائی کا بائیکاٹ کر دیا۔

جمعہ کے روز حزبِ اختلاف کے بائیکاٹ کے بعد کسی حکومتی رکن نے ان سے کارروائی میں حصہ لینے کے لیے نہیں کہا بلکہ اس دوران میں اسپیکر اسمبلی افضل ساہی نے پندرہ بیس منٹ میں حزب اختلاف کی سو سے زیادہ تحریکیں ان ارکان کے موجود نہ ہونے پر تیزی سے نپٹا دیں جو پنجاب اسمبلی میں ایک ریکارڈ ہے۔

اسمبلی کا ریکارڈ
جمعہ کے روز حزبِ اختلاف کے بائیکاٹ کے بعد کسی حکومتی رکن نے ان سے کارروائی میں حصہ لینے کے لیے نہیں کہا بلکہ اس دوران میں اسپیکر اسمبلی افضل ساہی نے پندرہ بیس منٹ میں حزب اختلاف کی سو سے زیادہ تحریکیں ان ارکان کے موجود نہ ہونے پر تیزی سے نپٹا دیں جو پنجاب اسمبلی میں ایک ریکارڈ ہے۔

آج صبح ساڑھے دس بجے جب صوبائی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو مسلم لیگ(ن) کے پارلیمانی رہنما رانا ثناء اللہ پوائینٹ آف آرڈر پر کھڑے ہوگۓ اور انہوں نے کہا کہ جاوید ہاشمی کو گزشتہ روز گرفتار کرتے ہوئے تھپڑ مارے گئے۔ انہوں نے کہا جس توہین آمیز انداز میں جاوید ہاشمی کو گرفتار کیا گیا وہ پارلیمینٹ کی توہین ہے۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ جاوید ہاشمی پر ایک ایسے خط کے حوالے سے کارروائی کی گئی ہے جو کسی نے لکھا تھا اور حکومت کو چاہیے تھا کہ پہلے خط قبضہ میں لے کر اس کی تحقیقات کراتی اور اگر جاوید ہاشمی کی بات غلط ثابت ہوتی تو کوئی کارروائی کرتی۔

رانا ثناء اللہ نے موقف اختیار کیا کہ فوج کے ادارے کو بدنام کیا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جو بات اب تک ایک فیصد لوگوں کو معلوم تھی وہ جاوید ھاشمی کو گرفتار کرکے پوری دنیا میں پھیلا دی گئی ہے اور یہ مقدمہ درج کرنے والوں نے فوج کے خلاف سازش کی ہے اور ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔

رانا ثناء اللہ کے جواب میں پنجاب حکومت کے ایک وزیر کرنل محمد انور نے کہا کہ جاوید ہاشمی کے خلاف کارائی اس لیے کی گئی ہے کہ ایک جعلی خط کے ذریعے فوج کو بدنام کرنے کی کوشش کررہے تھے اور انہیں اس کی سزا ملنی چاہیے تھی۔

کہا گئے وہ دن

 یہ سب لوگ نواز شریف دور میں ہمارے ساتھ تھے اور انہیں ایک معزز رکن کی گرفتاری پر حزب اختلاف کا ساتھ دینا چاہیے تھا لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا اور اب مزے لے رہے ہیں۔

رانا ثناء اللہ

تاہم رانا ثناء اللہ نے، جو کچھ عرصہ پہلے خود بھی پنجاب اسمبلی میں فوج پر تنقید کرنے کے بعد اغوا کرلیے گۓ تھے اور ان کی بھنویں مونڈ دی گئیں تھیں، قدرے دفاعی انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت فوج کے ادارہ کا احترام کرتی ہے لیکن وہ ان جرنیلوں کے خلاف ہیں جو وردی پہن کر سیاست میں آ کر اس ادارے کو تباہ کر رہے ہیں۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ حکمرانوں پر جب برا وقت آتا ہے تو جس طرح جاوید ہاشمی کے خلاف کارروائی کی گئی برسرِ اقتدار لوگوں سے اس قسم کی حرکتیں ہوتی ہیں یا کروائی جاتی ہیں۔

پیپلز پارٹی کے پارلیمانی رہنما قاسم ضیا نے بھی جاوید ہاشمی کی گرفتاری کی مذمت کی۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کس قانون کی بات کرتی ہے اور ایک فرد واحد کو کس قانون نے وردی میں حکومت کرنے کی اجازت دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوج کو بھی سوچنا چاہیے کہ جو لوگ کل اس کی حمایت کرتے تھے آج اس کے مخالف بن گئے ہیں۔

متحدہ مجلس عمل کے پارلیمانی رہنما اصغر گجر نے بھی جاوید ہاشمی کی گرفتاری کی مذمت کرتےہوئے کہا کہ جاوید ہاشمی جیسے ایک سینیئر پارلیمینٹیرین کو تھپڑ مارا گیا جبکہ قانون تو ایک قاتل پر بھی تشدد کی اجازت نہیں دیتا۔

صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے جاوید ہاشمی کی گرفتاری کا دفاع کیا اور کہا کہ جاوید ہاشمی کو معلوم تھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور انہوں نے خط ملنے کے بعد پریس کانفرنس کر کے غیر ذمہ دارانہ حرکت کی جو ان جیسے ذمہ دار شخص کے شایان شان نہیں تھا۔

راجہ بشارت کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف فوج کے ادارے کے سربراہ کے خلاف باتیں کرتی ہے اور یہ درحقیقت سب ہندوستان کو خوش کرنے کی کوشش ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوج کو دباؤ میں لانا حزب اختلاف کی دائمی خواہش ہے اور اگر یہ خواہش نہ ہوتی تو بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کا واقعہ پیش نہ آتا اور یہ لوگ اب اقتدار میں ہوتے۔

راجہ بشارت نے کہا کہ بیس اکتوبر کو ملنے والے خط کے ایک ہفتہ بعد ان کے خلاف کارروائی کی گئی جس کا مطلب ہے کہ اس دوران میں حکومت نے اس معاملہ کی مکمل چھان بین کی ہے۔

ایوان میں اس وقت ہنگامہ ہوگیا جب مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناء اللہ نے حکومتی جماعت مسلم لیگ (ق) کے ارکان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب لوگ نواز شریف دور میں ہمارے ساتھ تھے اور انہیں ایک معزز رکن کی گرفتاری پر حزب اختلاف کا ساتھ دینا چاہیے تھا لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا اور اب مزے لے رہے ہیں۔

انھوں نے ایک شعر پڑھا جس میں کہا گیا تھا کہ کوئی کمینہ فرش سے عرش پر نہیں پہنچ سکتا۔ اس بات پر حکومتی جماعت کے ارکان نے احتجاج کیا اور ایوان میں مختلف جماعتوں کے لوگ ایک ساتھ بولنے لگے۔

اس موقع پر حزب اختلاف نے گو مشرف گو اور مشرف کا جو یار ہے غدار ہے کے نعرے لگانے شروع کردیے اور کارروائی کا بائیکاٹ کردیا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد