| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
میمونہ ہاشمی کی اپیل
اتحاد برائے بحالی جمہوریت ( اے آر ڈی) کے صدر اور مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر جاوید ہاشمی کی بیٹی اور رکن قومی اسمبلی میمونہ ہاشمی نے دولت مشترکہ سے درخواست کی ہے کہ وہ ان کے اسیر والد کے مقدمہ کی عدالتی کاروائی کی مانیٹرنگ کرے اور حکومت پر ان کے آئینی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے زور دے۔ پیر کے روز میمونہ ہاشمی نے دولت مشترکہ کے سیکرٹری جنرل ڈؤن میکنن کے نام تحریری خط میں لکھا ہے کہ جب دولت مشترکہ کی وزارتی کمیٹی پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے عمل کو مانیٹر کررہی ہے تو ایسے موقع پر پارلیمینٹ میں حزب مخالف کے حقوق اور جمہوری اصولوں کی خلاف ورزی کے حوالے سے ان کی توجہ دلانا ضروری ہے۔ میمونہ ہاشمی نے دولت مشترکہ کے نام اپنے خط میں کہا کہ ان کے والد جاوید ہاشمی کو انتیس اکتوبر کو پارلیمنٹ لاجز سے گرفتار کر لیا گیا اور ایک ہفتہ تک کسی میجسٹریٹ کے سامنے پیش نہیں کیا گیا اور پولیس نے انہیں عدالت میں پیش کیے بغیر ان کا ریمانڈ حاصل کرلیا اور ہائی کورٹ میں بھی ان کے ریمانڈ کی نقل پیش نہیں کی گئی۔ انھوں نے کہا کہ عدالت کی جانب سے خصوصی ہدایت نہ ملنے تک ان کے والد کے ساتھ وکلاء اور اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ میمونہ ہاشمی نے کہا کہ ان کے والد اتحاد برائے بحالی جمہوریت (اے آر ڈی) کے صدر اور مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر ہیں اور اے آر ڈی کی قومی اسمبلی میں اسی ارکان کی نمائیندگی کرتے ہیں جبکہ حکومت نے ان کے والد کو خاموش کرانے کے ہتھکنڈے کے طور پر ان کو ایک بے بنیاد مقدمہ میں گرفتار کرلیا۔ انھوں نے کہا کہ جاوید ہاشمی نے اکیس اکتوبر کو وہ خط پڑھا تھا جس میں فوجی افسران نے زور دیا تھا کہ قومی قیادت جمہوریت کی بحالی اور انیس سو ننانوے میں کارگل کے سانحہ کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن تشکیل دے۔ انھوں نے کہا کہ اس خط پڑھنے کی سزا جاوید ہاشمی کو دی جا رہی ہے اور ان پر ایک بے بنیاد الزام کے تحت مقدمہ چلایا جارہا ہے ۔ میمونہ ہاشمی نے دولت مشترکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس واقعہ کا نوٹس لے اور اس کی تحقیقات کرے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||