| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
جاوید ہاشمی کی درخواست ضمانت
ہفتے کے روز اسلام آباد میں ایک سیشن جج کی عدالت میں مسلم لیگ(ن) کے قائم مقام صدر جاوید ہاشمی کی ضمانت پر رہائی کے لیے ایک درخواست دائر کردی گئی جس پر عدالت نے وفاقی حکومت کو ریکارڈ سمیت پچیس نومبر کو عدالت میں پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا ہے۔ درخواست ضمانت جاوید ہاشمی کے وکلاء لطیف کھوسہ اور اشتر اوصاف علی اور رکن قومی اسمبلی نیر حسین بخاری کی طرف سے دائر کی گئی ہے۔ اشتر اوصاف علی نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ جن دفعات کے تحت جاوید ہاشمی پر مقدمہ بنایا گیا ہے اس میں کوئی نجی طور پر فریق نہیں بن سکتا اور صرف ریاست ہی مدعی بن سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے موقف کے مطابق جاوید ہاشمی کے خلاف جو الزامات ہیں ان سے مقدمہ بنتا ہی نہیں ہے اور دوئم ان کے مؤکل کا حق ہے کہ وہ قصوروار قرار دیئے جانے سے پہلے اپنا تحفظ کرے اور حراست میں رہ کر وہ ایسا نہیں کر سکتا اس لئے اسے ضمانت پر رہا کیا جائے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ جاوید ہاشمی رکن قومی اسمبلی ہیں اور ایک سیاسی پارٹی اور ایک سیاسی اتحاد کے صدر ہیں ان کے خلاف یہ مقدمہ بدنیتی پر مبنی ہے اور اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ انہیں سیاسی عمل سے دور رکھا جائے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||