BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 15 November, 2003, 02:42 GMT 07:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جاوید ہاشمی کی رٹ پر فیصلہ محفوظ

جاوید ہاشمی
جمعہ کے روز لاہور ہائی کورٹ سے اجازت ملنے کے باوجود جاوید ہاشمی کو وکلاء سے نہیں ملنے دیا گیا

جمعہ کے روز لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس منصور احمد نے مسلم لیگ(ن) کے قائم مقام صدر جاوید ہاشمی کی بیٹی اور رکن قومی اسمبلی میمونہ ہاشمی کی جانب سے دائر کردہ رٹ درخواست پر دونوں جانب کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ پیر کے روز تک کے لیے محفوظ کرلیا۔

دوسری طرف میمونہ ہاشمی نے الزام عائد کیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ سے اجازت ملنے کے باوجود جمعہ کے روز انھیں اور جاوید ہاشمی کے وکلاء کو جیل حکام نے جاوید ہاشمی سے ملنے نہیں دیا۔

انھوں نے کہا کہ وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ ادویات ، کمبل اور کپڑے لے کر جیل گئے تھے جہاں ان سے کہا گیا کہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ ڈیوٹی پر موجود نہیں اور بعد میں ڈپٹی سپرنٹڈنٹ جیل بھی غائب ہوگیا اس طرح ان کی جاوید ہاشمی سے ملاقات نہیں ہوسکی۔

جمہ کے روز عدالت عالیہ میں حکومت کے جانب سے سپیشل پراسیکیوٹر منیر بھٹی نے اپنے دلائل میں کہا کہ جاوید ہاشمی کو تھانہ سیکرٹیریٹ میں درج مقدمہ کے تحت گرفتار کیا گیا اور اس کی گرفتاری سے متعلق ضلعی مجسٹریٹ اسلام آباد نے قومی اسمبلی کو آگاہ کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ جاوید ہاشمی کو سہالہ ریسٹ ہاؤس میں رکھا گیا اور یہ بیس اکتوبر کا وقوعہ ہے جس کی ایف آئی آر ستائیس اکتوبر کو درج کی گئی جس میں خورشید احمد مدعی کا بیان ہے کہ وہ بیس اکتوبر کو اسمبلی کی کاروائی دیکھنے گیا جہاں کیفے ٹیریا میں گواہوں نادر اور جہانزیب سے ملاقات ہوئی۔ اس طرح اس وقوعہ کے یہ دو گواہ ہوگئے۔

انھوں نے کہا کہ جاوید ہاشمی کو گرفتار کیا گیا تو انھوں نے اس سے پہلے ایک پریس کانفرنس کی تھی جس میں اخباری نمائندے شریک تھے اور ان میں قومی قیادت کے نام کے عنوان سے خط کی کاپیاں تقسیم کی گئیں۔

پراسیکیوٹر نے کہا کہ اس خط میں صدر پرویزمشرف ، حکومت پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف مواد تحریر تھا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ جنرل جاوید حسن کے بارے میں کہ جب وہ میجر جنرل تھے تو چار سال تک امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے لیے کام کرتے رہے جو کہ حقائق پر مبنی نہیں۔

سرکاری وکیل نے کہا کہ چونکہ یہ خط خود جاوید ہاشمی نے تیار کیا اس لیے اس پر کسی کے دستخط نہیں۔

انھوں نے کہا کہ درخواست گزار کے وکیل کا یہ کہنا کہ جاوید ہاشمی چھ مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوۓ درست ہوسکتا ہے لیکن یہ درست نہیں ہوسکتا کہ سرحدوں کی حفاظت کرنے والی فوج کے خلاف نفرت انگیز اور بغاوت پیدا کرنے والے خط تیار کرکے اسے تقسیم کیا جاۓ۔

انھوں نے کہا کہ جاوید ہاشمی نے اپنے ساتھیوں کے مشورہ سے خط تیار کیا اور نفرت ڈالنے کی کوشش کی جس سے پاکستان کی سلامتی ، خوشحالی اور یکجہتی کو نقشان پہنچانے سمیت ملک توڑنے کی سازش کی گئی۔

ریمانڈ کے کاغذ کے حوالہ سے وکیل استغاثہ نے کہا کہ ریمانڈ کے پرچہ پر میجسٹریٹ محمد اسلم گوندل کے دستخط اور مہر موجود ہے جبکہ جاوید ہاشمی کی گرفتاری کے بعد سے اب تک چار افسران پر مشتمل جماعت تحقیقات کررہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان افسروں میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس محمد اسحاق وڑائچ ، انسپکٹر مسرت علی خان، سب انسپکٹر بشیر احمد لون اور سب انسپکٹر محمد بشیر شامل ہیں۔

عدالت عالیہ نے ریکارڈ پیش کرنے کا جو حکم دیا اس کے تحت مقدمہ سے متعلق تمام ریکارڈ عدالت عالیہ میں پیش کردیا گیا اس کے باوجود مدعی بار بار شور مچاتے ہیں کہ ریکارڈ نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ لوگ ایف آئی آر میں دیے گئے رہائش گاہ کے پتے پر گئے جس سے ظاہرہوتا ہے کہ یہ جاوید ہاشمی کے خلاف مقدمہ کے مدعی اور گواہوں کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اگر مدعی یا گواہوں کو کچھ ہوا تو اس کی تمام ذمہ داری ان پر عائد ہوگی جس پر درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن نے فاضل عدالت کی توجہ اس نکتہ کی جانب مبذول کراتے ہوۓ اعتراض اٹھایا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ خود ہی مروا کر ہمارا نام لکھوا دیں۔

وکیل استغاثہ نے کہا کہ محض اس لیے دفعہ چار سو اکانوے کے تحت ضمانت کا حق ملزم کو نہیں دیا جا سکتا کہ وہ رکن قومی اسمبلی ہے۔ اس طرح تو پھر ارکان قومی اسمبلی اورصوبائی اسمبلی کوئی بھی جرم کرتے پھریں گرفتار نہیں ہوسکتے کیونکہ وہ ارکان اسمبلی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس موقع پر جب تحقیقات جاری ہیں درخواست گزار کے وکلا کا جاوید ہاشمی کی ضمانت کے لیے اصرار کرنا قانونی طور پر درست نہیں۔ اس لیے حبس بیجا کی رٹ مسترد کی جاۓ۔

وکیل استغاثہ نے انٹیلی جنس بیورو کے سابق سربراہ بریگیڈیر ریٹائرڈ امتیاز احمد اور بیرسٹر اعتزاز احسن کے حوالے اور سابق وزیراعلی پنجاب میاں منظور احمد وٹو کے مقدمات کے حوالہ جات دیتے ہوۓ کہا کہ ابھی تک قانون میں کوئی ایسی تبدیلی نہیں آئی کہ کوئی رکن قومی اسمبلی یا رکن صوبائی اسمبلی اگر جرم کرے تو گرفتار نہ کیا جاۓ۔ اس لیے ضمانت کے لیے انھیں طریقہ کار کے تحت ماتحت عدالت سے رجوع کرنا چاہیے۔

وکیل صفائی چودھری اعتزاز احسن نے اپنے دلائل میں کہا کہ خط پارلیمنٹ کے ارکان کے نام تھا اور خط میں اگر کارگل کی جنگ کے حوالے سے تحقیقات کی بات کی گئی ہے تو یہ کوئی بڑی بات نہیں۔

انھوں نے کہا کہ چودھری پرویز الہی بھی ایک مقدمہ میں بطور ملزم تھے لیکن آج پنجاب کے وزیراعلی ہیں اور اللہ کرے گا ایک دن جاوید ہاشمی بھی کسی بڑے منصب پر ہوگا۔ یہ سب وقت کی بات ہے۔

وکی صفائی نے کہا کہ انھوں نے قانون کی روشنی میں ضمانت کی بات کی ہے اور ان کے بار بار کہنے کے باوجود خط کا اصل متن جس کے تحت ایف آئی آر درج ہوئی انہیں نہیں دیا جا رہا اس سے ظاہر ہے کہ یہ خط حکومتی سیکرٹ ہے اور جی ایچ کیو کا صحیح لیٹر ہے جو صرف سرکاری تحویل میں ہے اور اب اس تمام بحث کی روشنی میں اس میں تبدیلی کا اندیشہ ہے اس لیے حبس بیجا کی اس درخواست کو ضمانت کی درخواست میں تبدیل کرتے ہوۓ دلائل کی روشنی میں چار سو اکانوے کے تحت جاوید ہاشمی کی ضمانت منظور کی جاۓ۔

اعتزاز احسن نے عدالت عالیہ سے یہ بھی کہا آپ چاہتے ہیں کہ جاوید ہاشمی کے ساتھ چار چھ اور سیاستدان گرفتار کریں تو ہم گھبرانے والےنہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد