’سزا غلط ملی ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما جاوید ہاشمی کو بغاوت کے مقدمے میں دی گئی سزا کے خلاف پیر کی شام ایوان بالا یعنی سینٹ کے اجلاس میں سخت احتجاج کرتے ہوئے علامتی واک آؤٹ کیا۔ جبکہ حکومت نے اس کو عدالتی معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ابھی اپیل کا حق باقی ہے اور لیگی رہنماؤں نے اپیل میں جانے کا اعلان بھی کیا ہے۔ سینٹ کا اجلاس شروع ہوا تو مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اسحاق ڈار نے نقطۂ اعتراض پر کہا کہ ہاشمی کو تئیس سال سزا دینا نا انصافی ہے۔ انہوں نے حکومت پر انتقامی کارروائی کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ تاریخ میں آج کا دن یوم سیاہ ہوگا۔ متحدہ مجلس عمل کے رہنما پروفیسر خورشید نے ہاشمی کو دی گئی سزا کو ریاستی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ معصوم لوگوں کے قاتل اور دہشت گردوں کے خلاف حکومت کچھ نہیں کر رہی جبکہ آئین کی بالادستی کی بات کرنے والوں کو سزائیں دے رہی ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما رضا ربانی نے کہا کہ حکومت لیگی رہنما کو سزا دے کر حزب اختلاف کو ڈرانے اور جھکانے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔ حکومتی سینیٹر خالد رانجھا نے کہا کہ ان کو سزا پر افسوس ہے لیکن یہ عدالتی معاملہ ہے اس پر ایوان میں مزید بحث نہیں کی جا سکتی۔ سینٹ میں قائدِ ایوان وسیم سجاد نے بھی اسے عدالتی معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہاشمی کا اپیل کا حق بھی باقی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگی رہنماؤں نے پہلے ہی سزا کے خلاف اپیل کرنے کا بھی اعلان کیا ہے لہْذا اس معاملے پر مزید بحث نہ کی جائے۔ اس پر حزب اختلاف نے احتجاجی طور پر علامتی واک آؤٹ کیا۔ علاوہ ازیں جاوید ہاشمی کی بیٹی میمونہ ہاشمی نے، جو رکن قومی اسمبلی بھی ہیں، نے ایک پریس کانفرنس میں اپنے والد کی سزا کو مسترد کرتے ہوئے جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے سزا کو تمغہ بغاوت کہتے ہوئے بتایا کہ مشرف کے چار سالہ دور میں ان کے والد نو مرتبہ جیل گئے ہیں جو ان کے بقول انتقامی کارروائی کا ثبوت ہے۔ اس موقعہ پر لیگی رہنما سرانجام خان نے کہا کہ جاوید ہاشمی کو سزا ملنے پر ان سے عہدہ واپس نہیں لیا جائےگا کیوں کے ان کے بقول سزا غلط ملی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت جلد وہ پارٹی کی مجلس عاملہ کا اجلاس بلا کر فیصلے کے خلاف احتجاج کی حکمت عملی وضع کریں گے۔ لیگی رہنما مشاہد اللہ خان نے ایم کیو ایم کا نام لئے بغیر کہا کہ ایک جانب کراچی میں دہشت گردی کرنے والوں کو حکومت میں شامل کیا ہوا ہے اور دوسری جانب بنگلہ دیش نامنظور تحریک چلانے اور ملک کی خاطر انتیس بار جیل جانے والے جاوید ہاشمی کو بغاوت کے الزامات کے تحت سزا دی ہے۔ ایک اور مسلم لیگی رہنما ظفر اقبال جھگڑا نے، جو کہ اتحاد برائے بحالی جمہوریت کے جنرل سیکرٹری بھی ہیں، بتایا کہ اٹھارہ اپریل کو کوئٹہ میں اتحاد کا اجلاس ہوگا جس میں سزا کے خلاف احتجاج کی حکمت عملی مرتب کی جائے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||