BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 04 November, 2003, 14:33 GMT 19:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جاوید ہاشمی کی گرفتاری ،کسے کیا ملا

قومی اسمبلی
قومی اسمبلی

اتحاد براۓ بحالی جمہوریت کے صدر اور مسلم لیگ(ن) کے قائم مقام صدر جاوید ہاشمی کے غداری کے الزام میں گرفتاری کے خلاف مسلسل دوسرے روز بھی قومی اسمبلی کے اجلاس میں متحدہ حزب اختلاف نے احتجاج کیا، اسپیکر کے ڈائس کے قریب آکر نعرے بازی کی، بینرز لہراۓ اور اجلاس کا بائیکاٹ کردیا۔

جاوید ہاشمی کی گرفتاری کے بعد اے آر ڈی کی جماعتوں اور متحدہ مجلس عمل کے درمیان ایک بار پھر یکجہتی دیکھنے میں آئی ہے۔ اس سے پہلے حدود آرڈیننس کے خاتمہ کے لیے پیپلز پارٹی کی رکن شیری رحمان کی طرف سے بل پیش کرنے پر مجلس عمل کے رہنما مولانا فضل الرحمن نے متحدہ حزب اختلاف سے الگ ہونے کی دھمکی دی تھی۔

قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعتوں کا شدید احتجاج تو تصویر کا ایک رخ ہے۔ دوسرا رخ یہ ہے کہ اس نے حزب مخالف کی کمزوری اور عوام کی ان سے لاتعلقی کو واضح کردیا ہے۔ گزشتہ پانچ دنوں سے جب سے جاوید ہاشمی گرفتار ہیں حزب اختلاف عوامی سطح پر کوئی موثر احتجاج منظم نہں کرسکی۔

جاوید ہاشمی کی جماعت مسلم لیگ(ن) بھی اپنے مرکزی رہنما کی گرفتاری پر، عوام کو تو دور کی بات، اپنے کارکنوں کو بھی سڑکوں پر نہیں لا سکی۔ لاہور جو شریف خاندان کی سیاست کا گڑھ سمجھا جاتا ہے وہاں پر بھی گزشتہ جمعہ مسلم لیگ(ن) کے بیس پچیس کارکن جمع ہوۓ جنھیں پولیس نے چند گھنٹے حراست میں رکھ کر رہا کردیا۔

شاید اسی غیر موثر احتجاج کو دیکھتے ہوۓ حکومت کا حوصلہ اور بلند ہوگیا اور وفاقی دارلحکومت کی پولیس نے ہفتہ کے روز صبح ساڑھے سات بجے جاوید ہاشمی کو اسلام آباد میں سول اور جوڈیشل میجسٹریٹ عامر سلیم رانا کی عدالت میں پیش کرکے ان کا مزید نو روز کا جسمانی ریمانڈ لے لیا۔

حکومتی ارکان یہ کہہ چکے ہیں کہ جسمانی ریمانڈ کے دوران کسی رکن اسمبلی کو ایوان میں پیش کئے جانے کی مثال موجود نہیں اس لیے حزب اختلاف کا سپیکر سے یہ مطالبہ جائز ہے کہ وہ ان کو ایوان میں لانے احکامات جاری کریں۔ اب اس کام میں مزید نو روز کی توسیع ہوگئی ہے۔

جاوید ہاشمی کو رمضان کے مہینے میں قید کرکے حکومت نے رمضان کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔ رمضان میں سیاسی بھاگ دوڑ میں ویسے ہی کمی آجاتی ہے اور اب اس مہینے کے آخری دنوں میں تو عبادات میں اضافہ کی وجہ سے سیاسی سرگرمیاں ویسے ہی رک جاتی ہیں۔ اسمبلی کا اجلاس بھی شاید جاری نہ رہے۔ گویا اسمبلی میں ہونے والا احتجاج بھی ختم ہوجاۓ گا اور عوامی سطح پر تو ویسے ہی کچھ نہیں ہورہا۔

جاوید ہاشمی کے ایک ایسے خط کو، جو مبینہ طور پر فوج کے کچھ اہلکاروں کی طرف سے حزب اختلاف کی حمایت اور فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف کی مخالفت میں لکھا گیا تھا، پریس کانفرنس میں نشر کرنے پر گرفتاری کے بارے میں یہ راۓ تو عام طور پر سامنے آچکی ہے کہ حکومت کا مقدمہ کمزور ہے۔ کچھ عرصہ بعد حکومت عدالت میں اپنا مقدمہ زور دار طریقے سے پیش نہ کرکے انھیں رہا کردے تب بھی اس نے کچھ مقاصد تو ابھی سے حاصل کر ہی لئے ہیں۔

ایک تو حکومت کی طرف سے یہ پیغام سامنے آیا ہے کہ جو بھی جنرل مشرف کے خلاف ایک حد سے زیادہ آگے جاۓ گا حکومت اس سے بہت سختی سے نپٹے گی۔ حزب اختلاف کے کئی کمزور دل رہنماؤں کو سمجھانے کے لیے یہ بات کافی ہے خاص طور پر اخبارات میں ایسی خبریں شائع ہونے کے بعد کہ جاوید ہاشمی کو حراست میں مارا پیٹا گیا۔ ان کوگرفتاری کے وقت تھپڑ مارے گۓ تھے یہ بات تو ان کی بیٹی نے اپنی پریس کانفرنس میں بھی کی تھی۔

وزیراغظم ظفراللہ جمالی نے لاہور میں کھل کر یہ بات کہی کہ پارلیمان اپنی حدود میں رہے اور عدلیہ اور فوج پر تنقید برداشت نہیں کی جاسکتی۔ لاہور میں کانسٹیبل کے ایک جنرل کے اہل خانہ کی گاڑی کو روکنے پر جو سزا ملی اور اس پر فوجی افسر کے خلاف اور پولیس کانسٹیبل کے حق میں جو عوامی ردعمل سامنے آیا اس سے بھی حکمران خاصے زچ تھے۔ جاوید ہاشمی کی فوج میں منقسم راۓ کو مشتہر کرنے پر ان کو گرفتار کرکے واضح کردیا گیا ہے کہ جو مخالفت کرے گا اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جا سکتا ہے۔

حکومت کی اس سوچ کی نشاندہی ہفتہ کے روز وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد کے اس بیان سے بھی ہوتی ہے جو انھوں نے اخبار نویسوں سے اپنے چیمبر میں بات چیت کرتے ہوۓ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسپیکر نے حزب اختلاف کے خلاف کاروائی کی تو وہ سخت ہوگی اور اب ہلکی پھلکی موسیقی سے کام نہیں چلے گا۔

جنرل مشرف کے لیے یہ بھی اطمینان کی بات ہوگی کہ اس وقت حزب اختلاف کی توجہ ایل ایف او اور ان کی وردی پر نہیں ہے بلکہ جاوید ہاشمی کی رہائی کا مطالبہ ایک بڑا ایشو بن گیا ہے۔

جو لوگ جاوید ہاشمی کی گرفتاری میں زیادہ گہرے معنی تلاش کرنے کے خواہش مند ہیں وہ اس خدشہ کا اظہار کرہے ہیں کہ کیا اس کا مقصد یہ تو نہیں کہ حزب اختلاف کو اسمبلی میں اتنے شدید احتجاج پر مجبور کردیا جاۓ جس کے بعد اسٹیبلشمینٹ موجودہ نظام کے ساتھ کچھ بھی کرے تو لوگ کہیں اچھا ہی ہوا۔

جمعہ کے روز جس طرح حکومت اور حزب اختلاف کے ارکان کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی اور ایک رکن نے دوسرے کو ٹکر ماری اس کے بعد یہ امکان تو موجود ہے کہ یہ ہنگامہ آرائی بڑھ کر گھناؤنی صورت بھی اختیار کرسکتی ہے۔

شیخ رشید نے ہفتہ کے روز ایک بات اور بھی کہی ہے کہ صدر پارلیمینٹ سے خطاب کریں یا نہ کریں اسمبلیاں چلتی رہیں گی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کی کوشش ہے کہ اسمبلی نہ چلے۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ کچھ ہوگا تو ہمارا (حکومتی مسلم لیگ) اور متحدہ مجلس عمل کا کیا جاۓ گا۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کا مستقبل میں کوئی کردار نہیں ہے۔

جو لوگ پاکستان کی سیاست سے واقف ہیں انہیں معلوم ہے کہ حکومت کسی خدشہ کی بار بار تردید کرے تو وہ اکثر صحیح نکل آتا ہے۔ جاوید ہاشمی کی گرفتاری سے پیدا ہونے والے خدشات کچھ ایسے بے جا بھی نہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد