’شوکت عزیز اٹک گئے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چند دنوں میں پاکستان کے وزیراعظم کے طور پر حلف لینے والے شوکت عزیز نے اٹک اور تھرپارکر کی دونوں نشستوں سے کامیابی کے بعد اٹک کی نشست پاس رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ شوکت عزیز اٹک میں کیسے اور کیوں ’اٹکے، یہ سوال اسلام آباد میں کافی زیر بحث ہے۔ اٹک سے قومی اسمبلی کی نشت ایمن وسیم نے خالی کی تھی جو چوہدری شجاعت حسین کی بھانجی اور اٹک کے ضلعی ناظم میجر (ریٹائرڈ) طاہر صادق کی بیٹی ہیں۔ اٹک کی تاریخ میں خاصی اہمیت ہے اور شمال سے آنے والے ہر طالع آزما کو یہاں سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور ان میں سے کئی یہیں ’اٹک‘ گئے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ مقام ہی ایسا ہے کہ ہر کوئی یہاں ہر کسی کو روکنا یا ’اٹکنا‘ پڑتا ہے۔ صوبہ پنجاب کے شمالی ضلع اٹک کی سرحد دریائے سندھ کے بائیں کنارے پر ختم ہوتی ہے، جہاں اکبر بادشاہ نے سہولویں صدی میں ایک قلعہ تعمیر کرایا تھا جو’اٹک قلعہ‘ کے نام سے مشہور ہے۔ آج کل یہ قلعہ پاکستان فوج کے سپشل سروسز گروپ ، یلدرم کا ہیڈ کواٹر ہے۔ اس قلعہ میں سابق وزیراعظم نواز شریف قید رہ چکے ہیں اور ان کی سعودی عرب روانگی بھی اس قلعہ سے ہی ہوئی تھی۔ جبکہ آصف علی زرداری سمیت کئی سیاستدانوں کے مقدمات کا ٹرائل بھی اس قلعہ میں قائم کردہ خصوصی عدالتوں میں ہوتا رہا ہے۔ اٹک قلعہ سے یہ عدالتیں اب ختم کر دی گئی ہیں۔ پاکستان کے عنقریب وزیراعظم بننے والے شوکت عزیز کی اٹک کی نشست پاس رکھنے کی بظاہر وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ انہوں نے یہ فیصلہ موجودہ وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کی فرمائش پر کیا ہے۔ پاکستان کے سیاسی حلقوں میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر شوکت عزیز چودھری شجاعت حسین کی خواہش پر یہ نشست نہ رکھتے تو پھر ابھی سے ان کے درمیان اختلافات کی قیاس آرائیاں شروع ہوجاتیں۔ بہرحال جو بھی ہوا وہ ہوگیا اور اٹک میں شوکت عزیز کے ’اٹکنے، کی بظاہر وجہ چودھری شجاعت حسین کی خواہش اور فرمائش ہے۔ مستقبل کےوزیراعظم کی جانب سے صوبہ سندھ کے ضلع تھرپاررکر کی نشست چھوڑنے پر ان کے مخالفین کو تنقید کا موقع ملا ہوا ہے اور سندھی اخبارات میں روز ان کے ایسے بیانات شائع ہورہے جس میں شوکت عزیز پر’تھری عوام‘ سے بے وفائی کے الزامات لگائے جارہے ہیں۔ اٹک کے عوام اب برملا کہہ سکتے ہیں کہ صرف ان کے ضلع میں وزیراعظم قید ہی نہیں رہتے بلکہ یہاں سے منتخب ہونے والے افراد وزیراعظم بن بھی سکتے ہیں۔ مستقبل کے پاکستانی وزیراعظم شوکت عزیز کے لیے بیشتر تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ وہ ’ٹیکنوکریٹ‘ ہیں اور ان کے لیے یہ چیلنج سے کم نہیں کہ ایک غیر سیاسی شخص سیاسی حکومت کامیابی سے چلائیں! |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||