با صلاحیت یا قسمت کے دھنی؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیر خزانہ شوکت کی وزارت عظمی کے عہدے پر یقینی ترقی پر پاکستان کے کاروباری خاص کر صنعتی حلقوں میں بڑا جوش و خروش پایا جاتاہے۔ لیکن پاکستان کے معاشی حلقوں میں اس بات پرکچھ اختلاف پایا جاتا ہے کہ معاشی ترقی میں شوکت عزیز کی پالسیوں ان کے اپنے کردار اور ستمبر گیارہ کے واقعات اور اس کے مضمرات کا کتنا حصہ ہے۔ بہرحال ایک بات پر تقریباً سارے لوگ متفق ہیں اور وہ یہ کہ شوکت عزیز پاکستان کی تاریخ کے خوش قسمت ترین وزیر خزانہ ہیں۔ ملکی معیشت کے بہتری میں ان کے کردار کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ تین ٹیکس تشخیصی سالوں میں انہوں نے حکومت ِ پاکستان کو پندرہ ہزار آٹھ سو چوہتر روپے ٹیکس ادا کیا۔ (اس ٹیکس میں ان کی تنخواہ پر رائج ٹیکس شامل نہیں ہے کیونکہ وہ بطور وزیر ایک روپیہ تنخواہ لیتے رہے ہیں)۔ الیکشن کمیشن کو مہیا کیے گئے شوکت عزیز کے اپنے ریکارڈ کے مطابق انہوں نے تشخیصی سال دوہزار تین اور دو ہزار چار میں چار ہزار نو سو آٹھ روپے، دوہزار دو اور دو ہزار تین میں ایک ہزار آٹھ سو چون روپے اور دوہزار ایک اور دو ہزار دو میں نو ہزار ایک سو چودہ روپے ٹیکس حکومتِ پاکستان کو ادا کیا۔ الیکشن کمیشن میں داخل کردہ معلومات کے مطابق ان کے کل اثاثوں کی مالیت تقریباً تین عشاریہ سات ارب روپے ہے جو زیادہ تر امریکہ اور برطانیہ میں ہیں۔ پاکستان کے اکیسویں وزیر اعظم بننے والے شوکت عزیر کو ملک میں شہرت اس وقت ملی جب نومبر انیس سو نناوے میں جنرل پرویز مشرف نے انہوں اپنا وزیر خزانہ مقرر کیا۔ اس وقت سے اب تک مغربی ممالک اور قرض دینے والے اداروں میں اپنی ساکھ اور تعلقات کی بنا پر وہ بڑے کامیاب وزیر خزانہ کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ ان کے خیال کے مطابق ملکی معیشت کو وہ اس نہج پر لے آئے ہیں کہ ملک اب ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ وزیر اعظم کی حیثیت سے ان کا مطمع نظر ملک کو ملایشیا کے سابق حکمران مہاتر محمد کی طرز پر دوراندیش قیادت فراہم کرنا ہے تاکہ پاکستان کی حقیقی صلاحیتوں اور استطاعت کو سامنے لایا جا سکے۔ بقول ان کے غربت میں کمی، عوام کیلئے روزگار کی فراہمی، سرمایہ کاری کیلئے موزوں ماحول اور معاشی ترقی ان کی اولین ترجیحات اور چیلنجز ہوں گے۔ شوکت عزیر چھ مارچ 1949 میں کراچی میں ایک سنی مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سینٹ پیٹرکس سکول کراچی اور ایبٹ آباد پبلک سکول ، ایبٹ آباد سے حاصل کی۔ انیس سو سڑسٹھ میں گورڈن کالج راولپنڈی سے بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی اور انیس سو انہتر میں انسٹیٹوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کراچی سے ایم پی اے کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے والد شیخ عبدالعزیز ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے اور ریڈیو پاکستان میں طویل عرصے تک انجینئیر کی حیثتت سے منسلک رہے۔ ان کی والدہ کا تعلق ریاست جموں کشمیر سے ہے۔ شوکت عزیز نے اپنی عملی زندگی کا آغاز انیس سو انہتر میں سٹی بینک کراچی سے کیا۔انیس سو پچہتر میں اسی بینک کے بین الاقوامی دھارے میں شامل ہوگئے۔ مختلف ملکوں میں مختلف حیثیتوں میں کام کرنے کے بعد انیس سو بانوے میں وہ سٹی بینک کے ایگزیکٹو وائس پریذیڈنٹ مقرر ہوئے۔ اکتوبر انیس سو نناوے میں جب فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف نے وزیر اعظم نواز شریف کو ان کے عہدے سے ہٹا یا تو ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج معیشت کی بہتری تھا جو مئی انیس سو اٹھانوے کے ایٹمی دھماکوں کے بعد بین الاقوامی پابندیوں کے زیر اثر ہے۔ اگرچہ نواز شریف حکومت کے لیے ضروری اشیا کی درآمد کیلئے زرمبادلہ کی شدید مشکلات کا سامنا تھا وہ قرض دینے والے اداروں کے ساتھ قرضوں کی ری شیڈولنگ کیلئے مذاکرات کا آغاز کر چکے تھے۔ لیکن اس کے فوراً بعد ستمبر گیارہ کے واقعات پاکستان کی امریکہ کے ساتھ فرنٹ لائن دوستی، امریکہ میں دہشت گردی کیلیے فراہم کی جانے والوں رقوم کے خلاف مہم اور اس سے بڑھ کر پاکستان میں ہنڈی اور حوالے کے خلاف مہم نے سمندر پار پاکستان کو مجبور کر دیا کہ وہ ناصرف اپنی رقوم اپنے ملک منتقل کریں بلکہ اس کو سرکاری ذرائع سے ترسیل کو یقینی بنائیں۔ اس کے نتیجے میں تین سال کے دوران تقریباً آٹھ ارب ڈالر سے زائد رقوم پاکستانیوں نے اپنے ملک کو منتقل کی جس کی وجہ سے ناصرف ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوتا رہا بلکہ روپے کی قیمت بھی مستحکم ہوئی اور افراط زر کی شرح بھی زیادہ نہ بڑھ سکی۔ تاہم ملک میں غربت کی شرح میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا اور مختلف سروے کے مطابق غربت کی شرح چالیس فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ خود وزراتِ خزانہ کے دعوے کے مطابق غربت کی شرح بتیس فیصد ہے۔ کچھ معاشی ماہرین کے مطابق وزیرخزانہ شوکت عزیر کے دور میں امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہو تے گئے۔ اس کے علاوہ بے روز گاری کی شرح دو ہزار ایک میں سات عشاریہ آٹھ فیصد سے بڑھ کر اب آٹھ عشاریہ چار فیصد ہو چکی ہے۔ سرمایہ کاری میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا۔ درمیانے طبقے اور نچلے طبقے کے سرمایہ داروں کیلیے قرضے پر سود کی شرح ابھی بہت زیادہ ہے۔ اور سینئر سٹیزن اور کم بچت والے افراد کیلیے بچت سکیموں میں سے دلچسپی ختم کردی گئی ہے کیونکہ ان پر شرح منافع اب نہ ہونے کے برابر ہے۔ شوکت عزیز کے کئی وزارتی ساتھیوں کا خیال ہے کہ وہ مشکل فیصلے خود کرنے کے بجائے ایسے فیصلوں کو اجتماعی ذمہ داری کے ذریعے کرانے کی کوشش کرتے ہیں جس کو کچھ لوگ ان کی کمزوری سمجھتے ہیں۔ شوکت عزیز کواپنے دوستوں اور دشمنوں میں تمیز کرنے میں ملکہ حاصل ہے۔ چند صحافیوں کو یہ شکایت بھی ہے کہ وہ اپنے نقادوں کو نیوز کانفرنسوں میں سوال کرنے سے باز رکھنے کی حتی الامکان کوشش کرتے ہیں جس میں وہ اکثر کامیاب رہتے ہیں۔ اس بات کا فیصلہ اب آنے والا وقت ہی کرے گا کہ آیا شوکت عزیز غربت میں کمی، سرمایہ کاری میں اضافے، بے روزگاری کے خاتمے اور معاشی ترقی کے چیلنجوں کا مقابلہ وزارتِ عظمی کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد کر سکیں گے یا نہیں؟ بطور وزیر خزانہ شوکت عزیز یوں خوش قسمت رہے کیونکہ حالات نے ان کا ساتھ دیا ۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کے بطور وزیر اعظم وہ کتنے باصلاحیت ثابت ہونگے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||