ہزار سال پہلے، پچاس برس بعد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تھرپارکر کے تعلقہ نگرپارکر میں گرینائٹ کی ایک طویل پہاڑی ہے‘ کارونجھر نام کی۔کارونجھر سے وابستہ دیومالائی داستانوں کے مالک تو نگرپارکر کے لوگ ہیں لیکن گرینائٹ ان لوگوں کی ملکیت ہے جن میں سے اکثر نے یہ علاقہ نقشے پر ہی دیکھا ہو گا۔ اسی کارونجھر سے بہنے والے ایک چشمے کے کنارے میں نے علی نواز کھوسہ کے ساتھ کچھ وقت گزارا ہے۔جنہیں تھر کے لوگ علاقے کا زندہ انسائکلو پیڈیا سمجھتے ہیں۔ علی نواز کھوسہ نے ہی مجھے بتایا تھا کہ تھر تاریخی طور پر افغانستان سے سندھ کے راستے گجرات اور کاٹھیاواڑ جانے والوں کی گزرگاہ رہا ہے۔ محمود غزنوی جب سومناتھ پر حملے کے لیے یہاں سے گزرا تو اس کے ساتھ گھڑ سوار اور اونٹ سوار فوجی دستے تھے لیکن واپسی میں ان دستوں کے ساتھ وہ اونٹ بھی تھے جن پر سومناتھ مندر کا سونا لدا ہوا تھا۔ محمود کا لشکر واپسی کے دوران نگر پارکر کے نزدیک راستہ بھول گیا اور بوڈیسر نامی گاؤں کے پاس ایک تالاب کے کنارے عارضی پڑاؤ ڈالا۔ مقامی لوگوں نے محمود کو راستہ دکھایا۔محمود نے تالاب کے کنارے ایک یادگار بنوائی اور تھینک یو کہہ کر سومناتھ کے سونے سمیت غزنی کی طرف روانہ ہو گیا۔ اسی نگر پارکر سے کچھ دور بھلوا نامی گاؤں بھی ہے جہاں ماروی رہتی تھی۔ شہزادہ عمر کی نظر یہیں سے گزرتے ہوئے کنوئیں سے پانی بھرتی ماروی پر پڑی تھی۔ کنواں تو وہیں رہ گیا مگر ماروی کو عمر لے گیا۔ اسی تھر کے راستے اب سے چار سو باون برس پہلے مغل بادشاہ ہمایوں سوری پٹھانوں سے شکست کھا کر جب ایران کی طرف بھاگا تھا تو عمر کوٹ کے قریب اس کی ملکہ حمیدہ بانو نے ایک بچے کو جنم دیا تھا۔ تھری، ہمایوں، حمیدہ بانو اور نوعمر اکبر کی جتنی خدمت کرسکتے تھے کی لیکن تاج و تخت ملنے کے بعد نہ تو ہمایوں اور نہ ہی اکبرِ اعظم نے اس علاقے کی طرف نظر بھر کے دیکھا۔ میں نے علی نواز کھوسہ سے پوچھا لوگ آپ کے علاقے کے احسان مند ہونے کے باوجود یہاں پلٹتے کیوں نہیں ہیں۔علی نواز کا کہنا تھا کہ جو علاقے صرف گزرگاہ ہوتے ہیں انکے ساتھ یہی ہوتا ہے۔ میں نے اپنی آنکھیں بند کرلیں اور مستقبل میں چھلانگ لگادی۔ زمانہ ہے سن بیس سو چون کا۔اسی کارونجھر پہاڑی کے ساۓ تلے ایک اور علی نواز کھوسہ کسی اور وسعت اللہ خان کو بتا رہا ہے اب سے پچاس برس پہلے شوکت عزیز نامی ایک بااثر شخص بھی یہاں سے گزرا تھا۔اچھا آدمی تھا۔اس نے اس علاقے کی قسمت بدلنے کا وعدہ بھی کیا تھا۔لیکن وقت نے اسے فرصت نہیں دی ورنہ یہاں پچاس برس پہلے ہی پانی بجلی اور سڑک آچکی ہوتی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||