شتر مرغ اور ایڈز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ دس برس پہلے کی بات ہے۔لاہور کے بادامی باغ ٹرک اڈے میں چاۓ کے کھوکھے پر میں ٹرک ڈرائیوروں اور کلینرز کے ساتھ گپ لگا رہا تھا۔مقصد تھا ایڈز سے متعلق ایک ریڈیو سیریز کے لئے مواد اکھٹا کرنا۔میں نے پوچھا آپ میں سے کتنوں نے ایڈز کا نام سنا ہے ۔ دو تین نے بتایا ہاں سنا ہے ڈاکٹر عتیق ہر ہفتے آ کر کچھ گولیاں کیپسول دے جاتا ہے جن سے ایڈز نہیں لگتا۔لیکن جب ان سے کنڈوم کے بارے میں پوچھا گیا تو سبھوں نے نفی میں سر ہلایا کہ یہ نام نہیں سنا۔ سیریز کی ریکارڈنگ کے سلسلے میں تین روز لاہور کی ہیرا منڈی میں بھی رہا۔وہاں ایک مقامی ڈاکٹر کے توسط سے چند ایسی خواتین سے ملاقات ہوئی جو رضاکارانہ طور پر اپنی ہم پیشہ عورتوں کو ایڈز سے متعلق بنیادی آگہی دینے کا کام کررہیں تھیں۔انہوں نے شکوہ کیا کہ بات سننے کو تو سب ہی تیار ہیں لیکن مفت کنڈوم لینے پر کوئی آمادہ نہیں۔کیونکہ اس پر اصرار کیا جاۓ تو گاھک سیڑھیاں اتر جاتا ہے اور یوں ان عورتوں کا روزگار متاثر ہوتا ہے۔ اسلام آباد سے گلگت تک سڑ ک کے راستے سفر کے دوران جہاں جہاں میڈیکل اسٹور دکھائی دیا ہر ایک میں جا جا کر پوچھا کیا آپ کنڈوم بھی بیچتے ہیں۔سواۓ ایک فوجی کنٹونمنٹ میں قائم میڈیکل اسٹور کے کہیں کنڈوم نہیں تھے۔ایک میڈیکل اسٹور والے نے مجھ سے پوچھا کیا آپ مسلمان ہیں ؟ میں نے کہا الحمدُ ِللہ ! کہنے لگا بڑے افسوس کی بات ہے مسلمان ہو کر ایسی باتیں کرتے ہیں۔ایک اور میڈیکل اسٹور پر جب کنڈوم کا پوچھا تو جوابی سوال آیا۔آپ کہاں سے تشریف لاۓ ہیں ؟ لندن سے ! اچھا اچھا تبھی ایسی باتیں کر رہے ہیں۔ کراچی میں ایک معروف ماہرِ جنسیات سے ملاقات ہوئی۔انہوں نے ایڈز کا سبب یہ بتایا کہ یہ ایک دوسرے کا تولیہ استعمال کرنے سے لگتا ہے۔ سول اسپتال کے لان میں لاغر سے لوگ ایک طرف ٹولی بنا کر بیٹھے ہوۓ تھے۔وہیں کے ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ یہ اپنا خون بیچ کر کھانے پینے اور نشے کا خرچہ پورا کرتے ہیں۔ یہ باتیں میں انیس سو چورانوے کی کر رہا ہوں جب سرکاری ریکارڈ کے مطابق پاکستان کی چودہ کروڑ آبادی میں ایڈز کے وائرس سے متاثرہ لوگوں کی تعداد سات سو اڑسٹھ تھی۔آج یہ تعداد انیس سو دس بتائی جا رہی ہے۔گویا سرکاری اندازوں کو مان لیا جاۓ تو دس برس میں ایڈز کے متاثرین میں صرف گیارہ سو بیالیس افراد کا اضافہ ہوا ہے۔ انیس سو چورانوے میں غیر سرکاری اندازوں کے مطابق پاکستان میں ایڈز سے متاثرہ افراد کی تعداد ستر ہزار سے اسی ہزار کے درمیان تھی۔آج دس برس گزرنے کے بعد بھی یہی تعداد بتائی جا رہی ہے۔ لگتا یوں ہے کہ نہ تو سرکار کے پاس کوئی باقاعدہ ریکارڈ ہے اور نہ غیر سرکاری این جی اوز کے پاس۔سارا گزارہ اندازے اور سروے پر ہو رہا ہے۔ باقی ممالک کم از کم اس مسئلے کی شدت کا اعتراف کرکے اس سے نمٹنے کی اپنی سی کوشش کر رہے ہیں لیکن پاکستان میں لگ یوں رہا ہے کہ شتر مرغ کی طرح ریت میں سر دے کر ایڈز کے وائرس کو دھوکا دینے کی کوشش ہو رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||