BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 02 May, 2004, 17:58 GMT 22:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بے حسی بمقابلہ بے بسی

مقدونیہ
مقدونیہ
پاکستانی دفترِ خارجہ نے سنیچر کو مقدونیہ کی حکومت کے اس اعتراف کو سراہا کہ دو برس پہلے دارلحکومت سکوپئے میں جو سات پاکستانی تارکینِ وطن دہشت گردی کے شبہے میں پولیس نے ہلاک کر دیے تھے وہ بےگناہ تھے اور اب حکومتِ مقدونیہ اس واقع میں ملوث پولیس والوں کے خلاف کاروائی کر رہی ہے۔

اگر حکومتِ مقدونیہ دو برس بعد بھی اعتراف نہ کرتی تو حکومتِ پاکستان کو کبھی بھی معلوم نہ ہوتا کہ مرنے والے پاکستانی دہشت گرد تھے یا بےگناہ تارکینِ وطن۔ کیونکہ حکومتِ پاکستان کو اگر یہ معلوم کرنے سے ذرا بھی دلچسپی ہوتی تو وہ دو سال پہلے اس واقعہ کی تفتیش کے لئے کوئی ٹیم ضرور مقدونیہ روانہ کرتی۔اپنے ہی شہریوں کے بارے میں ریاستی بے حسی کا یہ اسکینڈل اتنا بڑا ہے کہ اگر کسی ایسے ملک میں ہوتا جہاں کا سماج انسانی حقوق کو واقعی کوئی اہمیت دیتا ہے تو وہاں کی حکومت کبھی کی مستعفی ہو چکی ہوتی اور اسکے ارکان تحقیقاتی کمیٹیوں کے چکر لگا رہے ہوتے۔

اسی سے ملتا جلتا ایک واقعہ سالِ گزشتہ کے دوران اطالوی شہر نیپلز میں پیش آیا تھا جب کچھ پاکستانیوں کو دہشت گردی کا ایک منصوبہ بنانے کے شبہے میں حراست میں لے لیا گیا۔روم میں قائم پاکستانی سفارتخانے نے اس واقعہ پر دبا دبا احتجاج کیا اور قیدی پاکستانیوں کی ایک مرتبہ کمبل صابن اور بسکٹ بھی پہنچائے۔بھلا ہو اطالوی عدالتی نظام کا کہ جس نے کچھ دنوں بعد ان پاکستانیوں کو ازخود اس بنیاد پر رہا کرنے کا حکم دیا کہ انہیں غلط فہمی کے نتیجے میں دھر لیا گیا تھا۔

کیا توقع
 جس ملک کا صدر ہر دوسری تیسری پریس کانفرنس میں فخریہ اعتراف کرے کہ اسکی حکومت نے دو برس میں چھ سو سے زائد دہشت گردوں کو پکڑ کر سیدھے سیدھے مارڈالا۔اس ملک کی حکومت سے یہ توقع عبث ہے کہ وہ بیرونِ ملک اپنے شہریوں کی جان کے تحفظ کو یقینی بنانے میں سنجیدہ ہو سکے

جس ملک کا صدر ہر دوسری تیسری پریس کانفرنس میں فخریہ اعتراف کرے کہ اسکی حکومت نے دو برس میں چھ سو سے زائد دہشت گردوں کو پکڑ کر سیدھے سیدھے مارڈالا۔اس ملک کی حکومت سے یہ توقع عبث ہے کہ وہ بیرونِ ملک اپنے شہریوں کی جان کے تحفظ کو یقینی بنانے میں سنجیدہ ہو سکے ۔

لیکن دکھ اس وقت اور بھی بڑھ جاتا ہے جب پاکستان میں انسانی حقوق کے تحفظ کی کوششوں کے نام پر قائم کوئی بھی تنظیم حکومت کے اس دعوی کو چیلنج نہ کر سکے کہ دہشت گردی کے قلع قمع کے نام پر جو چھ سو سے زائد افراد ہلاک کر دئیے گئے انکے خلاف حکومت کے پاس کم از کم قانونی ثبوت کیا تھے؟

بیرونِ ملک جو پاکستانی دہشت گردی ، ویزے کی مدت سے زائد قیام یا پھر متحارب گروہوں کے یرغمالیوں کے طور پر یا غیر ملکی سرکاری قید خانوں میں زندگی گزار دیتے ہیں یا ہلاک کر دئیے جاتے ہیں۔انکی خبرگیری کے لئے انسانی حقوق کی کسی پاکستانی تنظیم، کسی سیاسی جماعت یا کسی قومی اخبار نے اپنے طور پر آواز بلند کرنے یا تحقیق کرنے کی کتنی بار زحمت اٹھائی ہے؟

اس صورتِ حال کے باوجود سلام ہے ان لاکھوں شہریوں کو جو اپنے ملک سے باہر اپنے وطن یا اسکی حکومت کے خلاف کسی غیر کی معمولی تنقید بھی نہیں سہہ سکتے اور زندگی کے ہاتھوں لگے سارے چرکے اپنے سینوں پر جھیلنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد