BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 30 September, 2003, 12:39 GMT 16:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایک اور گیارہ ستمبر
سلوادور آئندے خطاب کرتے ہوئے
سلوادور آئندے خطاب کرتے ہوئے

تحریر: وسعت اللہ خان

اب سے دو برس پہلے والے گیارہ ستمبر کو جب نیو یارک کے ورلڈٹریڈسینٹر پر حملہ ہوا تو صدر بش نے اس عالمی دہشت گردی کی جو متعدد وجوہات بیان کیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ یہ دہشت گرد امریکی جمہوریت، طرز زندگی اور شخصی آزادیوں کی ثقافت سے حسد میں مبتلا ہیں۔ لیکن اس دنیا میں گیارہ ستمبر سن دو ہزار ایک سے قبل ایک اور گیارہ ستمبر بھی گزرا ہے جب جمہوریت اور شہری آزادیوں کے سب سے زیادہ علم بردار ملک نے ایک چھوٹے ملک میں جمہوریت کا چراغ بجھا دیا کیونکہ اس چھوٹے ملک کی جمہوریت امریکی جمہوریت کی ہم خیال نہ تھی۔

گیارہ ستمبر انیس سو تہتر کو جب چلی کے دارالحکومت سانتیاگو کے صدارتی محل پہ چلی کی فضائیہ اور برّی فوج حملے کر رہی تھی تو عوام کے ووٹوں سے منتخب حکومت کے خلاف اس کاروائی کی ہدایت کاری امریکی سفارت خانے میں بیٹھے سی آئی اے کے اہلکار کر رہے تھے۔

نو دو گیارہ
دھندلے آئینے میں میں نے دیکھا
دو میناروں کے بیچ ایک محل
محل میناروں سے زیادہ قدیم
اور مینار آسمانوں کو چھوتے ہوئے
آئینے کے ایک طرف میں نے دیکھا
محل پر بم گراتے لڑاکا جہاز
آئینے کے دوسری طرف
میناروں سے ٹکراتے مسافر طیّارے
آئینے کے دوسری طرف صبح کے نو
لیکن آئینے کے دوسری طرف
وہی نو گیارہ
وہی نو گیارہ
آئینے کے اس طرف
نیو یارک کی ناف میں
ایک سوراخ
تاکہ امریکہ دیکھ سکے
کہ اس نے دنیا میں کتنی دہشت پھیلائی
اور اس ناف میں سے امریکہ
دوبارہ پیدا ہوکر
امن سے جینا سیکھ سکے
آئینے کے اّس طرف
محل سے ابھی بھی شعلے اٹھ رہے ہیں
میں دیکھتا ہوں
کہ شعلے تو اٹھ رہے
لیکن محل ابھی جلا نہیں
الفریڈو کوردال

چلی میں لاطینی امریکہ کے دیگر ممالک کے برعکس اٹھارہ سو دس میں سپین سے آزادی کے بعد سے جمہوری روایات مسلسل تھیں۔ خود سلوادور آئندے بھی چلی کی جمہوریت کا کوئی نیا یا اچھوتا کردار نہیں تھے۔ وہ جب انیس سو ستر کے صدارتی انتخابات میں کامیاب ہوئے تو یہ بطور امیدوار ان کے چوتھے انتخابات تھے۔انیس سو اٹھاون کے انتخابات میں وہ صرف ساڑھے تین فیصد ووٹوں کے فرق سے ہارے تھے۔ انیس سو چونسٹھ میں ان کی ہار کو یقینی بنانے کیلئے، امریکی سینیٹ کی ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق، سی آئی اے نے تین ملین ڈالر خرچ کئے اور ان کے مخالف کرسچین ڈیموکریٹ امیدوار کی مہم کا آدھا خرچہ برداشت کیا لیکن انیس سو ستر کے انتخابات میں جب تمام تر کوششوں کے باوجود سلوادور آئندے بائیں بازو کے اتحاد پیپلز یونٹی کے قائد کے طور پر پہلی مرتبہ صدارتی انتخابات جیتے تو امریکی صدر نکسن کے قومی سلامتی کے مشیر ہینری کنسنجر نے یہ تبصرہ کیا ’اگر کسی ملک کے عوام اپنے غیر ذمہ دارانہ رویئے کے نتیجے میں کمیونزم کے راستے پر چل نکلے ہیں تو کیا ہمیں خاموش تماشائی بن جانا چاہئے‘۔

اس سے پہلے کہ سلوادور آئندے عہدہ صدارت کا حلف اٹھاتے، چلی کی فوج کے سربراہ جنرل رینے شنیڈر کو اغوا کرنے کی کوشش کے دوران شدید زخمی کر دیا گیا اور بعد میں وہ چل بسے۔ اس واردات کا مقصد یہ تھا کہ فوج بھڑک اٹھے اور سلوادور آئندے کے باضابطہ صدر بننے سے پہلے ہی ان کا تختہ الٹ دے۔ امریکی سینیٹ کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق جنرل شنیڈر کے قتل کیلئے اسلحہ سی آئی اے نے فراہم کیا تھا۔

چلی تانبے کی پیداوار کے حوالے سے دنیا میں سرفہرست ہے۔ صدر آئندے نے اپنا عہدہ سنبھالتے ہی تانبے کی صنعت پہ اجارہ دار امریکی کمپنیوں ’کین کوٹ‘ اور ’ایناکونڈا‘ اور مواصلاتی نظام کی اجارہ دار آئی ٹی ٹی کے اثاثے قومی تحویل میں لے لئے۔ غیرملکی بینکوں کو بھی قومیا لیا گیا، مزدوروں کی تنخواہوں میں اضافہ ہوا اور ناکافی غذائیت کے شکار پانچ لاکھ بچوں کو اسکول میں مفت دودھ کی فراہمی شروع ہوئی۔

امریکی سینیٹ کی رپورٹ کے مطابق سی آئی اے نے صدر آئندے کے اقتدار کے تین برس میں ان کے خلاف آٹھ ملین ڈالر کی رقم براہ راست خرچ کی۔ یہ رقم حزب اختلاف کے رہنماؤں اور ٹریڈ یونینز کو دی گئی، اخبارات کے ایڈیٹروں کو بانٹی گئی اور فوجی جرنیلوں کو پہنچائی گئی۔ عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے اپنے قرضے معطل کر دیئے۔ یہ سب کچھ عین آئندے کے برسر اقتدار آنے کے بعد وائٹ ہاؤس میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر رچرڈ ہیلمز، اٹارنی جنرل جان مچل، قومی سلامتی کے مشیر ہنری کسنجر اور صدر رچرڈ نکسن کے ایک اجلاس میں طے پانے والے اس منصوبے کے مطابق ہو رہا تھا جس کے تحت یہ فیصلہ کیا گیا کہ چلی کی معیشت کو گھٹنوں کے بل جھکا دیا جائے۔

نتیجہ یہ نکلا کہ آئندے کے اقتدار کے دوسرے سال میں خوردنی اشیاء بازار سے غائب ہونی شروع ہوگئیں، بیرونی سرمایہ کاری ٹھپ ہوگئی، تانبے کی عالمی قیمت میں کمی آگئی، زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے گھٹنے لگے، افراط زر پانچ سو فیصد سالانہ کی شرح تک پہنچ گیا، بلیک مارکیٹ وجود میں آگئی، ٹرانسپورٹ کی ہڑتالیں اچانک شروع ہوگئیں اور لوگ بلبلانے لگے۔

گیارہ ستمبر انیس سو تہتر کو جیسے ہی فوج کے سربراہ جنرل پنوشے کے فوجی دستوں نے صدر آئندے کا صدارتی محل تباہ کر کے اقتدار پہ قبضہ کیا، سی آئی اے کی فہرست کے مطابق بائیں بازو کے لوگ پکڑے جانے لگے۔ بیشتر کو سانتیاگو کے مرکزی سٹیڈیم میں جمع کیا گیا اور گولی مار دی گئی۔ کئی کابینہ وزیر بھی اسی طرح ہلاک کئے گئے، یونیورسٹیاں فوج کے کنٹرول میں دے دی گئیں اور سیاسی جماعتیں کالعدم قرار دے دی گئیں اور سترہ برس طویل فاششٹ دور حکومت کا آغاز ہو گیا۔ امریکہ کی اقتصادی اور فوجی امداد بحال ہوگئی۔ غیر ملکی کمپنیوں کے اثاثوں سے لے کر پینشن کی سکیموں تک ہر شے کی نج کاری ہوگئی اور ملک پہ ایک سکوت کی حکمرانی ہو گئی۔

اگر واشنگٹن میں جمہوریت کا میوزیم قائم کیا جائے تو اس میں ایسے حکمرانوں کی آویزاں فہرست بھی اچھی لگے گی جو بیلٹ باکس کے ذریعے برسر اقتدار آئے اور امریکہ کے نزدیک راندہ درگاہ ہوگئے۔

ایران کے وزیراعظم ڈاکٹر مصدق، گھانا کے صدر کوامے اینکرومہ، کانگو کے صدر پیٹرس لوممبا، انڈونیشیا کے صدر احمد سوئیکارنو، چلی کے صدر سلوادور ائندے، پاکستان کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو، نکاراگوا کے صدر ڈینیئل اورتیگا۔۔۔ کس کس کے نام گنوائے جائیں۔

گیارہ ستمبر انیس سو تہتر کو چلی کی حکومت ختم کرنے والے جنرل آگستو پنوشے آج سانتیاگو سے ایک سو بیس کلومیٹر دور ایک ساحلی بنگلے میں باقی ماندہ زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کی حکومت کے ہاتھوں قتل ہونے والوں کے وارثوں نے جنرل پنوشے کے خلاف سینکڑوں مقدمات دائر کر رکھے ہیں لیکن چلی کی سپریم کورٹ کہتی ہے کہ جنرل پنوشے چونکہ پچاسی برس کی عمر میں نسیان کا شکار ہیں لہٰذا ان کے خلاف اس عمر میں عدالتی کاروائی مناسب نہیں ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد