| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
چوراں دے کپڑے، ڈانگاں دے گز
امریکہ کو سب سے کھلا اقتصادی سماج سمجھا جاتا ہے۔مگر وہاں بھی آپ سرمایہ کاری نہیں کر سکتے جب تک آپ یہ ثابت نہ کر دیں کہ آپ کا سرمایہ منشیات ، اسمگلنگ یا کسی اور طرح کی بد عنوانی سے حاصل کردہ نہیں ہے۔بطور غیر ملکی سرمایہ کار آپ کو یہ اجازت بھی نہیں دی جا سکتی کہ آپ کسی صنعتی یا تجارتی شعبے پر سو فی صد اجارہ داری قائم کرنے یا سو فی صد منافع بیرونِ امریکہ لے جانے کی کوشش کریں۔اس طرح کی بے قاعدگی روکنے کے لئےامریکی ٹیکس قوانین اور اجارہ داری کمیشن کے ضوابط موجود ہیں۔ لیکن اسی امریکہ کے زیرِ تسلط عراق کی انتظامیہ نے تیل کی صنعت کو چھوڑ کر باقی تمام اقتصادی اثاثے منڈی میں براۓ فروخت پیش کر دئیے ہیں۔آپ کون ہیں، کہاں سے پیسہ لا رہے ہیں، کتنے اثاثے خریدنا چاہتے ہیں،کتنا منافع کمانا چاہتے ہیں، کتنا باہر لے جانا چاہتے ہیں ، یہ آپ طے کریں گے۔عراقی اسٹیل ملز، فاسفیٹ اور کھاد کے کارخانے، کیمیکلز، پلاسٹک ، ٹیکسٹائیل، سیمنٹ اور فوڈ پروسیسنگ کے پلانٹس، عراقی ریلوے، شپنگ، عراقی ائرویز، بینک،اسپتال،تعلیمی ادارے،پانی صاف کرنے اور سیوریج کے پلانٹس،بجلی گھر ، سب کچھ براۓ فروخت ہے۔ عراق کوئی بھوکا ننگا ملک نہیں ہے۔دنیا کے دوسرے بڑے تیل کے زخیرے کے علاوہ یہاں اتنی اضافی بجلی پیدا ہوتی ہے کہ جنگ سے قبل ترکی کو فروخت ہوتی تھی۔سابق دورِ حکومت میں سب لوگوں کو مفت تعلیم اور صحت کی سہولتیں حاصل تھیں۔پچاس فی صد سے زائد آبادی مڈل کلاس کے بریکٹ میں تھی جسے اقوامِ متحدہ کی طویل پابندیوں نے بھکاری کی سطح تک پہنچا دیا۔پابندیوں کے دور سے قبل اسی عراق کی سالانہ قومی آمدنی اسپین کے برابر تھی۔ اب ان عراقیوں کو جنھیں امریکہ نے صدام حسین کی آمریت سے نجات دلائی ہے۔کچھ ہی عرصے بعد تعلیم، صحت،پانی، بجلی،روزگار غرض بیشتر اشیا غیر ملکی نجی کمپنیوں سے انہی کی طے کردہ قیمتوں پر خریدنی پڑے گی۔امریکہ نواز عراقی انتظامیہ کہتی ہے کہ سو فی صد نجکاری عراقی تعمیرِنو کیلیے ضروری ہے۔سوال یہ ہے کہ جب سب کا سب نجی ہاتھوں میں جا رہا ہے تو پھر تعمیرِ نو کس چیز کی ہو گی۔ عراقی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عراق کی پچانوے فی صد آمدنی تیل کے شعبے سے آتی ہے اور تیل کے شعبے کی نجکاری نہیں کی جارہی۔ جنگ کے بعد سے عراق کا جو بھی تیل باہر جا رہا ہے اسکی ترسیل کی زمے دار دو امریکی کمپنیاں ہیں۔تیل کی وزارت میں ایک بڑی تعداد میں امریکی تیل کمپنیوں کے ماہرین مشاورت کر رہے ہیں۔تیل کی صنعت کو جدید بنانے کے اب تک جو محدود ٹھیکے ملے ہیں وہ امریکی کمپنیوں کو ہی ملے ہیں۔ اس تناظر میں جب عراقی وزیرِ خزانہ کامل الکیلانی یہ کہتے ہیں کہ تیل صنعت کی نجکاری نہیں کی جا رہی تو اسکا دوسرا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ فی الحال تیل کا شعبہ غیر امریکیوں کے لئے نہیں کھولا جا ۓ گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |