BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 21 June, 2004, 19:25 GMT 00:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسرائیل کی اچھی بری باتیں

News image
بدعنوانی کے الزام پر ’حاضر سروس‘ وزیراعظم سے بھی پوچھ کی گئی
اسرائیل ایک ایسی ریاست ہے جسے نوآبادیاتی سیاست کے ڈرائنگ بورڈ پر ڈیزائن کیا گیا۔

ایک ایسی ریاست جس کی بنیاد نسلی برتری کے صیہونی نظریے پر رکھی گئی چنانچہ اسکی سرحدوں کے اندر آباد غیر یہودی خود کو درجہ دوم کے شہری محسوس کرتے ہیں۔

اگرچہ یہودیت اسرائیلیوں کو ایک مذہبی لڑی میں پروئے ہوئے ہے پھر بھی ذرا سا کھرچا جائے تو کسی کو بھی نسلی، سماجی، معاشی اور سیاسی نفاق نظر آ سکتا ہے۔ مثلاً یورپ سے آنے والے اشکنازی یہودی شمالی افریقہ سے آ کر اسرائیل میں آباد ہونے والے سفرادی یہودیوں کے مقابلے میں سماجی اور سیاسی طور پر زیادہ بارسوخ ہیں۔ جبکہ سوڈان، یمن اور ایتھوپیا سے آنے والے یہودی پسماندگی کے سبب اسرائیلی سماج کے سب سے نچلے پائدان پر نظر آئیں گے۔

مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے بارے میں اسرائیل کی سرکاری پالیسی ایک ایسی کھلی نوآبادیاتی پالیسی ہے جو انسانی حقوق کے کسی بھی مروجہ معیار پر پوری نہیں اترتی۔

لیکن اسرائیلی سماج میں کچھ اور باتیں بھی ہیں جو اتنی ہی قابلِ غور ہیں جتنی کہ مندرجہ بالا باتیں۔

مثلاً اسرائیل انیس سو اڑتالیس میں اپنی پیدائش سے لے کر آج تک حالتِ جنگ میں ہے لیکن آج تک کوئی الیکشن اس بنیاد پر ملتوی نہیں ہوا کہ ملک نازک حالات سے گزر رہا ہے۔ انتہائی دائیں بازو سے لے کر بائیں بازو کی کسی جماعت پر یہ کہہ کر پابندی نہیں لگی کہ اسکا رہنما ملک کی بنیادیں کھوکھلی کر رہا ہے۔

انیس سو اڑتالیس سے لے کر انیس سو ستتر تک اسرائیل پر لیبر پارٹی کی مسلسل حکومت رہی لیکن پہلے وزیراعظم بن گوریان سے لے کر ایتزاک رابین تک کسی نے کوشش نہیں کی کہ زیادہ سے زیادہ اختیارات کے حصول کے لیے سیاسی جماعتوں یا پارلیمنٹ کے کردار کو مسخ کیا جائے یا مراعات یا پیسے کے بل بوتے پر وفاداریاں تبدیل کرائی جائیں۔

عدلیہ کے اختیارات کو کسی اسرائیلی حکومت نے لگام دینے کی کوشش نہیں کی۔جس کا ثبوت یہ ہے کہ موجودہ وزیرِ اعظم پر بدعنوانی کے الزامات کی نہ صرف اسٹیٹ پراسیکیوٹر نے اپنے طور پر چھان بین کی بلکہ پولیس نے ایک سے زائد مرتبہ وزیراعظم اور انکے صاحبزادے سے پوچھ گچھ بھی کی۔

فوج اور انٹیلی جینس ایجنسیوں کا اسرائیلی سماج میں مستقل قومی کردار ہے اور رہے گا۔لیکن اس قومی کردار کے بل پر فوج کے کسی سربراہ نے حکومت میں فوج کے مستقل کردار کا مطالبہ نہیں کیا۔بدترین حالات میں بھی فوج ہمیشہ منتخب وزیرِ اعظم کے تحت رہی اور وزیراعظم پارلیمنٹ کے تابع رہا۔

آخر غیرمعمولی علاقائی اور ملکی حالات کے باوجود اسرائیل میں سیاسی ادارے روزِاول سے اتنے طاقتور کیوں ہیں اور فوج کیوں ان اداروں کے تحت رہنا پسند کرتی ہے۔

بات یہ ہے کہ اگرچہ خود اسرائیل کا اپنا وجود نوآبادیاتی سیاست کی پیداوار ہے لیکن فوج کی بنیاد ان لوگوں نے ڈالی ہے جنہوں نے ذاتی طور پر اسرائیل کے قیام کی لڑائی لڑی ہے۔یہ فوج ملک کو کسی نوآبادیاتی طاقت سے ورثے میں نہیں ملی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد