شوکت بمقابلہ ہاشمی: تیاریاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی قومی اسمبلی میں قائد ایوان کے انتخاب کے لیے’ون ٹو ون‘ مقابلہ حکومتی امیدوار شوکت عزیز اور حزب اختلاف کے جیل میں بند رہنما جاوید ہاشمی کے درمیاں ہوگا۔ ووٹنگ جمعہ کی شام اسمبلی کے خصوصی طور پر بلائے گئے اجلاس میں ہوگی۔ قومی اسمبلی کے سپیکر چودھری امیر حسین نے دونوں امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے ہیں اور جاوید ہاشمی کے کاغذات نامزدگی رد کرنے کے متعلق حکومتی اعتراضات مسترد کردیے ہیں۔ جمعرات کی صبح حزب اختلاف کے اتحاد برائے بحالی جمہوریت یعنی ’اے آر ڈی‘ کی دونوں بڑی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرینز اور مسلم لیگ نواز نے ترتیب وار مخدوم امین فہیم اور مخدوم جاوید ہاشمی کو اپنا امیدوار نامزد کر رکھا تھا، لیکن عین وقت پر اتفاق رائے سے فیصلہ مسلم لیگ نواز کے حق میں کیا گیا۔ حکومتی امیدوار شوکت عزیز نے بذات خود جبکہ حزب اختلاف کے امیدوار جاوید ہاشمی کے کاغذات نامزدگی ’اے آر ڈی‘ کے مرکزی رہنماؤں نے جمع کرائے۔ دونوں امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتا شروع ہوئی تو سپیکر چودھری امیر حسین کا کمرہ امیدواروں کے حامیوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور خاصہ شور بھی بپا تھا۔ حکومتی امیدوار شوکت عزیز کے کاغذات پر حزب اختلاف نے کوئی اعتراض نہیں کیا البتہ حکمران جماعت مسلم لیگ کے رکن اسمبلی زاہد حامد نے جاوید ہاشمی کے کاغذات نامزدگی اس بنا پر چیلینج کیے کہ انہیں عدالت نے بغاوت کے مقدمے میں سزا سنا رکھی ہے اور وہ قید کاٹ رہے ہیں۔ ان کا موقف تھا کہ آئین کے مطابق سزا یافتہ شخص انتخاب کے لیے نا اہل ہوتا ہے۔ حزب اختلاف کی جانب سے اعتزاز احسن نے حکومتی استدلال مسترد کرتے ہوئے دلائل پیش کیے کہ سزا کے خلاف اپیل زیر سماعت ہے اور ان کے موکل کو ابھی نا اہل قرار نہیں دیا گیا۔ انہوں نے سپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے یاد دلایا کہ جاوید ہاشمی کی بطور رکن اسمبلی تین دن قبل آپ نے خود چھٹی کی درخواست منظور کی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ رکن اسمبلی ہیں اور قانون کے مطابق رکن اسمبلی انتخاب میں حصہ لے سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب چودھری شجاعت حسین نے قائد ایوان کے لیے کاغذات نامزدگی داخل کیے تھے اور انہیں پیپلز پارٹی نے چیلینج کرتے ہوئے کہا تھا کہ قرضہ معاف کرانے والا رکن نا اہل ہوجاتا ہے۔ اعتزاز نے سپیکر سے کہا کہ آپ نے اس وقت فیصلہ دیا تھا کہ جب تک کوئی شخص رکن اسمبلی ہے اس وقت تک وہ انتخاب میں حصہ لے سکتاہے۔ اعتزاز کا کہنا تھا کہ آج وہ ہی قانون ہے اور ویسی ہی صورتحال ہے لہٰذا اس قانون کا اطلاق حکومت اور حزب اختلاف کے اراکین کے لیے ایک جیسا ہونا چاہیے۔ سپیکر چودھری امیر حسین نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا اور متعلقہ حکام سے مشاورت کے بعد سرکاری اعتراضات مسترد کرتے ہوئے جاوید ہاشمی کے کاغدات منظور کرنے کا فیصلہ سنایا۔ جاوید ہاشمی کی حمایت حزب اختلاف کے مذہبی جماعتوں ے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے بھی کرنے کا عندیہ دیا ہے تاہم تین سو بیالیس اراکین کے ایوان میں عددی اکثریت کی بنا پر کامیابی شوکت عزیز کی ہی نظر آتی ہے۔ یاد رہے کہ بدھ کے روز اٹھاون دن وزیراعظم رہنے کے بعد چودھری شجاعت حسین مستعفی ہوگئے تھے اور اب نئے قائد ایوان کا انتخاب ہو رہا ہے۔ چھبیس جون کو اس وقت کے وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی نے استعفیٰ دیا تھااور اس کے بعد چودھری شجاعت حسین نے انتیس جون کو نئے وزیراعظم کے طور پر حلف اٹھایا اور اب وہ بھی مستعفی ہوگئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||