’جمہوریت کا سبق نہیں چاہیئے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیرِ اعظم شوکت عزیز نے کہا ہے کہ پاکستان کو کسی طاقت یا کسی دوسرے ملک سے جمہوریت کے سبق لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے پاکستان کے وزیرِ اعظم نے کہا کہ ’ہمیں معلوم ہے کہ پاکستان کی بہتری کس میں ہے اور ہم وہ کریں گے جو ہمارے لیے بہتر ہو گا‘۔ انہوں نے کہا کہ جو کیپٹل ہل یا ہاؤس آف کامنز (دارالعوام) میں ہوتا ہے ہو سکتا ہے کہ وہ پاکستان کے لیے مناسب نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ہمارے ملک کی حالت کا دوسروں سے بہتر پتہ ہے اور ہم وہ فیصلہ کریں گے جو ہمارے حق میں بہتر ہو گا۔ صدر جنرل پرویز مشرف کے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’وہ (مشرف) بہت زبردست باس ہیں، وہ ایک اعلیٰ پائے کے سٹیٹسمین ہیں اور وہ وہ شخص ہیں جنہوں نے پاکستان کے لیے بہت اچھا کیا ہے۔ آج کل دنیا میں جتنی ان کی عزت ہے اس پر ہر پاکستانی کو فخر ہے‘۔ یاد رہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی نے اس ہفتے ایک بل پاس کیا ہے جس کے تحت صدر مشرف کو صدرِ پاکستان کے عہدے کے ساتھ ساتھ فوج کے سربراہ کا عہدہ بھی اپنے پاس رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس سے قبل صدر مشرف نے کہا تھا کہ وہ اگلے سال کے آغاز تک آرمی چیف کے عہدے سے دستبردار ہو جائیں گے۔ حزبِ مخالف نے حکومت کے اس اقدام کی پرزور مخالفت کی ہے اور اسے غیرجمہوری اور غیر آئینی قرار دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||