فرنانڈس کے خلاف ایف آئی آر درج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
الیکشن کمیشن کی ہدایات کے بعد جنتا دل یونائیٹیڈ (یو) کے صدر جارج فرنانڈس سمیت ان کی جماعت کے لگ بھگ بیس ارکان پرانتخابی ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ لیکن جارج فرنانڈس نے کسی بھی طرح کے انتخابی ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی سے انکار کیا ہے۔ جارج فرنانڈس پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے حلقۂ انتخاب مظفر پور میں ایک خاتون کو علاج کے لیے پیسے دیے تھے۔ مظفر پور کے ڈِسٹرِکٹ مجسٹریٹ ایس کے مشرا نے بی بی سی سے بات چيت کے دوران جارج فرنانڈس کے خلاف ہونے والی کارروائی کی تصدیق کی ہے۔ مشرا کا کہنا تھا کہ کاروائی متعلقہ خاتون کے اس بیان کی بنیاد پر کی گئی ہے جس میں اس نے پیسے پانے کے بارے میں کچھ باتیں کہی ہیں۔ انتخابی ضوابط کے مطابق انتخابات کے لیے نوٹیفیکیشن جاری ہونے کے بعد اس طرح کا عمل غیر قانونی ہے۔ ریاست بہار میں اسمبلی انتخابات کے لیے اس ماہ کی سترہ تاریخ کو نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعدجنتادل (یو) کی حریف لالوپرساد یادو کی پارٹی راشٹریہ جنتا دل نے جارج فرنانڈس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق جارج فرنانڈس نے سنیتا دیوی نامی ایک خاتون کے علاج کے لیے پیسے ہسپتال میں بھجوائے تھے جو بہت دنوں سے بیمار تھیں اور غربت کے سبب اپنے دو بچوں سمیت خود کشی کرنے کی کوشش کی تھی۔ فرنانڈس کا کہنا ہے کہ ایسی مجبور خاتون کی مدد کرنا ان کی ذمہ داری تھی۔ حال ہی میں الیکشن کمیشن نے اسی طرح کے ایک معاملے میں ریلوے کے وزیر لالو پرساد یادو کے خلاف بھی اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا تھا۔ یادو کے خلاف تفتیش جاری ہے۔ بہار میں آئندہ فروری میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ یہاں مقابلہ حکمراں جماعت لالو پرساد یادو کی راشٹریہ جنتادل اور بی جے پی کے قیادت والے این ڈی اے یعنی قومی جمہوری محاذ میں ہے۔ فرنانڈس اس محاذ کے کنوینر ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||