شنکر آچاریہ کی رہائی کا حکم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ نے شنکر آچاریہ کو اپنے ساتھی شنکر رمن کے قتل کے الزام کے ایک مقدمے میں ضمانت پر رہائی کا حکم دیا ہے۔ شنکر آچاریہ جینیدر سرسوتی کوگزشتہ سال 11 نومبر کوگرفتار کیا گیا تھا۔ عدالت نے شنکرآچاریہ کو حکم دیا ہے کہ جب تک اس مقدمے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوتا تب تک وہ کانچی مٹھ نہ جائیں اور انہیں یہ بھی حکم دیا گیا ہے وہ اپنا پاسپورٹ جمع کر وادیں اور بغیر اجازت کہیں نہ جائیں۔ اس کے علاوہ ان سے کہا گیا ہے کہ تفتیش کے دوران جب بھی ان کی ضرورت محسوس ہوگی تو انہیں پولیس کے سامنے پیش ہونا پڑےگا۔ اس مقدمے میں مدراس ہائی کورٹ نے دو بار ان کی ضمانت کی درخواست نامنظور کر دی تھی۔ عدالت کا موقف تھا کہ اگر انہیں رہا کر دیا گیا تو وہ اپنے خلاف موجود شواہد کو تباہ کر سکتے ہیں۔ اس وقت شنکرآچاریہ تامل ناڈو کی ویلور جیل میں ہیں اور انہیں منگل کی صبح تک رہا کیے جانے کی توقع ہے ۔ جیندر سرسوتی پر مٹھ کے ایک کارکن شنکر رمن کے قتل کا الزام ہے ۔ شنکر رمن نے مٹھ میں ہو رہی مبینہ بد انتظامیوں اور بد کاریوں پر اعتراض کیا تھا اورمقتول شنکر رمن نے گمنامی خط کے ذریعے بھی بعض واقعات کی تفصیلات ظاہر کی تھی۔ ستمبر کے مہینے میں انہیں قتل کر دیا گیا تھا۔ اس قتل کے سلسلے میں 5 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں ملزموں کے بیانات اور دیگر شواہد کی بنیاد پر پولیس نے شنکرآچاریہ کو قتل کا اصل ملزم بتایا تھا۔ شنکرآچاریہ کوایک دوسرے معاملے میں رادھاکرشنن نام کے ایک شخص کو قتل کرنے کی کوشش کے مقدمے میں پہلے ہی ضمانت دی جاچکی ہے ۔ شنکرآچاریہ ہندوؤں کے چار اعلٰی ترین مذہبی رہنماؤں میں سے ایک ہیں اور وہ خاصا سیاسی اثر و رسوخ بھی رکھتے ہيں۔ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی حکومت کے دوران واجپئی نے رام مندر اور بابری مسجد کے تنازع کو حل کرنے کے لئے ان کی مدد لی تھی اور انہوں نے اس سلسلے میں بعض اہم رہنماؤں سے بات چیت بھی شروع کی تھی۔ ایک طرف تو شنکر آچاریہ کی رہائی کی تیاریاں ہو رہی ہیں اور بی جے پی اور دوسری ہندو تنظیمیں خوشی کااظہار کر رہی ہیں جبکہ دوسری جانب تامل ناڈو کی پولیس نے جونیئر شنکرآچاریہ وبجیندر سرسوتی کو بھی کانچی مٹھ سے گرفتار کر لیا ہے۔ ان پر بھی تقریبا وہی الزامات عائد کيے گئے ہیں جو سینیئر شنکرآچاریہ پر لگائے گئے ہیں۔ پولیس انہیں سخت پہرے میں ایک خصوصی تفتیشی مرکز پر لے گئی ہے جہاں ان سے تفصیلی پوچھ گچھ کی جائے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||