بہار وزیر اعلی: لالو یا کوئی اور؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کرسی ایک ہے اور وہاں بھی لالو پرساد " نو ویکنسی " کی تختی لگا رکھی ہے لیکن بہار میں انتخابی عمل کا اختمام جیسے جیسے قریب آ رہا ہے وزیر اعلی بننے کے دعویداروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ وزیر اعلی رابڑی دیوی کے علاوہ لوک جن شکتی پارٹی کے صدر رام ولاس پاسوان، مشہور با لی ووڈ اداکار اور بی جے پی کے ایم پی شتروگھن سنہا، بی جے پی کے ہی سشیل کمار مودی، جنتا دل یونائٹیڈ کے نتیش کمار وزیر اعلی کے عہدے کے امیدواروں میں سے ہیں۔ کانگریس کے مرکزی وزیر شکیل احمد اور میرا کمار کا نام بھی سنا جا رہا ہے۔ آئندہ وزیر اعلی کون ہوگا؟ یہ سوال سنتے ہی لالو پر ساد یادو کہتے ہیں کہ وہاں" ویکنسی " کہاں ہے۔ انکے مطابق عوام سے انکی پارٹی کا بیس سال کا معاہدہ ہے اور ابھی تو پندرہ سال ہی ہوئے ہیں۔لالو کہتے ہیں کہ دیوی جی یعنی رابڑی دیوی ہٹنے والی نہیں ہیں۔ مرکزی حکومت میں لالو کے ساتھی وزیر رام ولاس پاسوان اسمبلی اتخابات میں انکی شدید مخالفت کر رہے ہیں۔ مسٹر پاسوان کا دعوی ہے کہ " دیوی جی اپنی سیٹ پر ضمانت بھی نہیں بچا سکتیں وزیر اعلی کا عہدہ تو دور کی بات ہے۔" مسٹر پاسوان نے خود کو حال ہی میں وزیر اعلی کا دعویدار بتانا شروع کیا ہے۔ انکی اس دعویداری پر بی جے پی رہنما ارون جیٹلی کہتے ہیں کہ پاسوان خام خیالی میں مبتلا ہیں۔ دراصل مسٹر پاسوان وزیر اعلی کے معاملے میں کئی بار اپنی رائے بدل چکے ہیں۔ پہلے انہوں نے نتیش کمار کو اس عہدے کے پیشکش اس شرط کے ساتھ کی کہ وہ بی جے پی سے رشتہ منقطع کر لیں۔ اس میں نا کامی کے بعد انہوں نے کانگریس کی قیادت کے سامنے کسی مسلم رہنما کو وزیر اعلی بنا نے کی تجویز رکھی۔ خود کو وزیر اعلی کا دعویدار بتانے سے دو دن قبل ہی انہوں نے یہ کہ کر خاصہ ہنگامہ کھڑا کر دیا تھا کہ معلق اسمبلی کی صورت میں ریاست میں دو سال کے لیے صدر راج نافذ کر دیا جائے۔ بی جے پی نے نتیش کمار کو وزیر اعلی کے طور پر پیش کیا ہے لیکن خود مسٹر نتیش کی پار ٹی جے ڈی یو کے صدر جارج فرنانڈس نے یہ کہ کر اس پیشکش پر سوالیہ نشان لگا دیا کہ اس بات کا فیصلہ نتائج آنے کے بعد کیا جائے گا۔ سیاسی حلقوں میں نتیش اور جارج کے تلخ رشتے کے چرچے عام ہیں۔ بی جے پی کے شتروگھن سنہا پارٹی کے اس فیصلہ سے بالکل متفق معلوم نہیں ہوتے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ سب سے بڑے ’کراؤڈ پلر’ یعنی ہجوم جمع کرنے والے لیڈر ہیں۔ اس لیے اس عہدے پر انکا حق بنتا ہے۔ اس بحث میں سشیل کمار مودی کا نام ذرا پیچھے چلا گیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ رام ولاس پاسوان کانگریس کی قیادت میں مسلم وزیر اعلی کی بات مسلمانوں کی ہمدردی حاصل کر نے کے لیے کر رہے ہیں۔ ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے نتائج 27 تاریخ کو معلوم ہو سکیں گے۔ ابھی تیسرے مرحلے میں 23 فروری کو 97 حلقوں میں ووٹ ڈالے جانے ہیں۔ اب تک 146 نششتوں کے لیے ووٹنگ کے بعد کئی ٹی وی چینلز پر کیے گئے " اگزٹ پولز" میں آخری نتائج کے بعد معلق اسمبلی کی پیش گؤئياں کی جا رہی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||