بھارت: پولنگ کم، تشدد زیادہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں تین ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں اوسط درجے کی پولنگ ہوئی ہے جبکہ پولنگ کے دوران تشدد کے واقعات میں پندرہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے نو پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ کے احکامات دیے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق جھارکھنڈ میں پینتالیس فیصد ووٹ پڑے ہیں جبکہ بہار میں باون سے پچپن فیصد تک رائے دہندگان نے ووٹ ڈالا ہے۔ ہریانہ میں سب سے زیادہ پینسٹھ فیصد لوگوں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ اسکی ابتدائی رپورٹ ہے اور ممکن ہے اس میں فرق بھی ہو۔ سرکاری بیان کے مطابق جھارکھنڈ اور بہار میں انتخابات کے دوران تشدد میں کم سے کم پندرہ افراد ہلاک ہوئے ہیں لیکن بعض دیگر ذرائع نے مرنے والوں کی تعداد انیس بتائی ہے۔ زیادہ تر ہلاکتیں نکسلیوں سے متاثرہ بہار اور جھار کھنڈ کے علاقوں میں ہوئی ہیں۔ماؤ نوازوں نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔اطلاعات کے مطابق نکسلیوں کی دھمکی کا اثر کئی علاقوں میں دیکھا گیاہے اور بعض پولنگ اسٹیشنوں پر لوگ ووٹ ڈالنے نہیں آئے۔ کئی جگہ پولنگ اسٹیشنز پر لوٹ مار اور قبضہ کرنے کے واقعات بھی ہوئے ہیں۔ جمعرات کے روز پولنگ سے ہریانہ کے اسمبلی انتخابات کا عمل تقریبا مکمل ہوگیا ہے۔ یہاں تمام نوے نشستوں پر ووٹ ڈالےگئے ہیں۔ بہار اور جھارکھنڈ میں انتخابات کا یہ پہلا مرحلہ تھا۔ جھارکھنڈ کی اکیاسی میں سے چوبیس اور بہار کی دو سو تینتالیس میں سے چونسٹھ نششتوں کے لیے انتخابات ہوئے ہیں۔وہاں پندرہ اور تئیس تاریخ کو مزید دو مرحلوں میں انتخاب ہوگا جبکہ ووٹوں کی گنتی اس ماہ کی ستائیس تاریخ کو شروع ہوگی |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||