جھار کنڈ: ماؤنوازوں کی دھمکیاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی مشرقی ریاست جھارکھنڈ میں ماؤنواز نکسلیوں نے آئندہ اسمبلی انتخابات کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ جس شخص نے بھی پولنگ میں حصہ لیا اسے ہلاک کردیا جائےگا۔ پہلے دور کے انتخابات کے لیے انتظامیہ نے سخت حفاظتی بندوبست کیے ہیں۔ بہار اور جھارکھنڈ میں آئندہ اسبلی انتخابات کی پولنگ سے عین قبل ماؤنواز باغیوں نے اپنی سرگرمیاں تیز کردی ہیں۔ جھارکھنڈ میں پہلے دور کے انتخابات کے لیے تقریبا نوے فیصد پولنگ اسٹیشنز کو حساس قرار دیا گیا ہے۔ نکسلیوں کے تازہ حملے میں سنیچر کی رات دو پولیس اہلکار ہلاک ہوگۓ تھے۔ لیکن اطلاعات کے مطابق ان کے نشانے پر وہ پولنگ ایجینٹ ہیں جنہیں ووٹنگ کے وقت پولنگ مراکز پر موجود رہنا ضروری ہے۔ اطلاعات کے مطابق انتہا پسندوں نے انتخابات میں ہر ممکن رخنہ اندازی کا منصوبہ بنایا ہے۔ انتظامیہ نے پولنگ کے لیے سخت انتظامات کیے ہیں۔ ماؤ نوازوں کا زیادہ اثرو رسوخ گری ڈیہ، ہزاری باغ اور پلامو کے اضلاع میں ہے۔ ہزاری باغ ضلع میں سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا پر بھی ماؤ نوازوں نے حملہ کیا تھا۔ پولنگ کے روز ان علاقوں میں پیرا ملٹری فورسز کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گيا ہے۔ انتہا پسندوں کے ذریعے انتخابات کا بائیکاٹ کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے اس سے قبل بھی ایسا ہوتا رہا ہے۔ لیکن اس بار ان کی سرگرمیوں میں اچانک تیزی آگئی ہے۔گزشتہ روز بی جے پی کے سابق صدر وینکیا نائیڈو کے ہیلی کاپٹر پر حملہ ہوا تھا جس میں وہ بال بال بچ گۓ تھے۔ پہلے بھی ان کے حملوں میں کئی افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||