BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 16 October, 2004, 13:18 GMT 18:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بات چیت جاری رکھنے کا فیصلہ
باغیوں نے مسلح جدوجہد ختم کرنے کا وعدہ نہیں کیا ہے۔
باغیوں نے مسلح جدوجہد ختم کرنے کا وعدہ نہیں کیا ہے۔
ہندوستان کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش کی حکومت اور ماؤ باغییوں نے پہلے براہ راست مذاکرات کے دوسرے دن اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ بات چیت جاری رکھیں گے۔

دونوں فریقین جمعہ کے روز دس گھنٹے کی بات چیت کے بعد جنگ بندی کے ایک وسیع سمجھوتہ پر پہنچ گۓ۔

ماؤ باغیوں کے رہنما راما کرشنا اور ریاست کے وزیر داخلہ جنا ریڈی نے اس بات چیت کو دوستانہ اور خوشگوار قرار دیا تاہم انہوں نے کہا کہ ابھی اہم رکاوٹوں کو عبور کرنا باقی ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کو ، جو زیادہ تر زمین کی تقسیم اور ترقیاتی کاموں پر مرکوز ہیں، پورے بھارت میں غور سے دیکھا جارہا ہے۔ ہندوستان میں آندھرا پردیش کے علاوہ دوسری ریاستیں بھی ماؤ باغیوں کی بغاوت سے نپٹنے کے راستے ڈھونڈ رہی ہیں۔

ماؤ نواز باغیوں اور بھارت کی ریاست آندھرا پردیش کے حکام کے درمیان مذاکرات ریاستی دارالحکومت حیدرآباد میں ہورہے ہیں جو اگلے پانچ دن تک جاری رہیں گے۔

باغیوں کے دو گروہ، پیپلز گروپ اور ماؤ کمیونسٹ سنٹر آف انڈیا نے مل کر ایک نیا گروپ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا ( سی پی آئی ماؤ) کے نام سے تشکیل دیا ہے اور وہ ان مذاکرات میں اسی نام سے شریک ہو ئے ہیں۔

صوبائی وزیرِ داخلہ کے جانا ریڈی نے مذاکرات سے قبل اخبار نویسوں کو بتایا تھا کہ وہ ان مذاکرات میں کامیابی کی امید کے ساتھ شریک ہو رہے ہیں۔

باغیوں کے ترجمان وروا راؤ نے اخبار نویسوں کو بتایا تھا کہ بے زمین کسانوں میں زمین کی تقسیم کا مسئلہ ان مذاکرات کے ایجنڈے پر سرِ فہرست ہے۔

باغیوں اور حکومت کی آٹھ رکنی کمیٹی کے علاوہ ان مذاکرات میں آٹھ مصالحت کار بھی شرکت کر رہے ہیں جن میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ، دانشور، اساتذہ اور اخبار کے مدیران شامل ہیں۔

انہیں لوگوں کی کوششوں کی وجہ سے ریاست کے حکام اور باغی مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے تیار ہوئے ہیں۔

تاہم بند کمرے میں ہونے والے ان مذاکرات سے لوگ زیادہ توقعات وابستہ نہیں کر رہے ہیں۔

باغیوں نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے ہتھیار نہیں پھنک رہے اور نہ ہی مسلح جدوجہد ترک کرنے کے لیے تیار ہیں۔

پیپلز وار گروپ کی بنیاد انیس سو اسی میں ڈالی گئی تھی اور جب سے وہ آندھرا پردیش کے قبائلی علاقے، مہاراشٹر، اوریسہ، بہار اور چھتیس گڑ پر مشتمل ایک کمیونسٹ ریاست کے قیام کے لیے مسلح جدوجہد کر رہے ہیں۔

گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اس مسلح جدوجہد میں چھ ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اندھراپردیش میں کانگرس کے برسراقتدار آنے کے بعد سے گزشتہ پانچ ماہ سے جنگ بندی جاری ہے اور تشدد کا کوئی واقع پیش نہیں آیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد