آسام: تشدد، ایف بی آئی کی پیشکش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں تشدد کے ایک اور واقعے میں دس افراد ہلاک اور تیرہ زخمی ہوئے ہیں۔ حکومتی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اتوار کو آسام کے مغربی ضلع ڈھُبری میں چھ افراد پر مبنی علیحدگی پسند باغیوں کے ایک گروہ نے ایک گاؤں کے ہفتے وار بازار میں فائرنگ شروع کردی۔ حکام نے تازہ حملے کے لئے علیحدگی پسند تنظیم نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ آف بوڈو لینڈ کے باغیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ حکام کے مطابق یہی باغی اختتام ہفتہ کو ریاست میں ہونے والے تشدد کے مختلف واقعات کے ذمہ دار ہیں۔ آسام اور پڑوسی ریاست ناگالینڈ میں اختتام ہفتہ کو باغی گروہوں کی جانب سے کیے جانے والے بم حملوں میں تہتر افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ناگالینڈ میں بھی علیحدگی پسند گروہ سرگرم ہیں۔ آسام کے بوڈو باغیوں نے منگل کے روز کہا کہ انہوں نے ریاستی حکومت کے ساتھ مذاکرات کی تجویز پیش کی ہے اور وزیراعلی ترون گوگوئی کی فائربندی کی پیشکش پر غور کررہے ہیں۔ لیکن ایک دوسرے باغی گروہ نے حکومت کی فائربندی کی پیشکش مسترد کردی ہے۔ یونائٹیڈ لِبریشن فرنٹ آف آسام نامی اس تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ صرف مرکزی حکومت سے بات کرے گی۔ وزیراعلیٰ گوگوئی نے کہا کہ نئی دہلی میں امریکی سفیر ڈیوِڈ ملفورڈ نے اختتام ہفتہ کو ہونے والے حملوں کی تفتیش کے لئے امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی مدد کی پیشکش کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے امریکی سفیر کی تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس پیشکش کے بارے میں مرکزی حکومت فیصلہ کرے گی۔ ریاست آسام بنگلہ دیش کی سرحد پر ہے اور اگست میں بنگلہ دیش میں تشدد کے ایک واقعے کے بعد ایف بی آئی نے بنگلہ دیشی حکومت کی مدد کی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||