ناگالینڈ، آسام تشدد میں67ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں ناگالینڈ اور آسام میں ہونے والے تشدد کے واقعات میں67 افراد ہلاک اور سو سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔ ناگا لینڈ میں کے ایک تجارتی مرکز دیماپور میں سنیچر کی صبح ہونے والے دو بم دھماکوں میں پولیس کے بقول کم از کم چھتیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اتوار کو تمام گیارہ ہلاکتیں آسام ہی میں ہونے والے دو واقعات میں ہوئی ایک واقعے میں دو اور ایک میں چھ افراد ہلاک ہوئے۔ اس طرح اسام ہی دو دن کے دوران تیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ سنیچر کے واقعات میں سو سے افراد کے زخمی ہوئے تھے جب کہ اتوار کو زخمی ہونے والوں کی تعداد بھی چطتیس بیائی جا رہی ہے۔ جن میں سے کچھ کی حالت نازک بھی ہے۔ جب کہ اس واردات کے کچہ ہی گھنٹے بعد بوڈو قبائل کے افراد نے آسام کے دوبھری ضلع بازار میں اندھا دھند گولیاں برسا کر بیس افراد کو ہلاک کر دیا۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ ناگا لینڈ کے دھماکوں کے پیچھے بھی نیشنل ڈیموکرٹک فرنٹ آف بوڈو لینڈ کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ دیماپور میں ایک دھماکہ ریلوے سٹیشن جبکہ دوسرا ایک بازار میں ہوا۔ موقع پر موجود لوگوں کا کہنا ہے دونوں دھماکے مقامی وقت کے مطابق ساڑھے نو بجے چند ہی منٹوں کے وقفے میں ہوئے۔ ریلوے سٹیشن پر ہونے والا دھماکہ اس وقت ہوا جب وہاں لوگوں کا ایک بڑا ہجوم موجود تھا جبکہ دوسرا دھماکہ ہانگ کانگ نامی مارکیٹ میں ہوا جہاں ممنوعہ مصنوعات کھلے عام فروخت کی جاتی ہیں۔ عینی شاہدوں کا کہنا ہے امدای کارکن زخمیوں اور لاشوں کو ہسپتال پہنچانے میں مصروف رہے۔ ریلوے حکام کا کہنا تھا کہ مسخ شدہ متعدد لاشیں ریلوے سٹیشن میں پڑی ہیں۔ ناگالینڈ میں گزشتہ پچاس برس سے زائد عرصے سے باغیانہ کارروائیاں جاری ہیں لیکن انیس سو ستانوے کے بعد سے ریاست کا بڑا باغی گروہ ’نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالینڈ (این ایس سی این)‘ حکومت سے مذاکرات میں مصروف ہے اور فریقین میں لڑائی بند ہو چکی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||