امام بارگاہ پر حملہ، پچیس ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سیالکوٹ میں جمعہ کو امام بارگاہ پر بم حملے کے بعد جس میں پچیس افراد ہلاک اور پچاس سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے، شہر میں حالات پر قابو پانے کے لیے فوج کو طلب کر لیا گیا ہے۔ امام بارگاہ پر حملے کے بعد مشتعل لوگوں نے شہر میں کئی جگہ ٹائروں کو جلا کر سڑکیں بلاک کر دی تھیں اور پولیس کی دو گاڑیوں کو بھی نظر آتش کر دیا تھا۔ سیالکوٹ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق فوجی ٹرکوں نے شہر میں گشت شروع کر دیا ہے اور کچھ جگہوں پر فوجیوں کی تعینات کر دیا گیا ہے۔ دھماکے کے بعد شہر میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہوگئی تھی اور جگہ جگہ مظاہرین نے ٹائروں کو آگ لگا دی تھی اور شہر میں کاروباری ادارے بند ہوگۓ تھے۔ سیالکوٹ کے شہری علی محسن علوی کا کہنا تھا ہے کہ دھماکے کے بعد لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد مسجد کے باہر جمع ہوگیا تھی۔ مظاہرین نے کچھ باروردی پولیس والوں کی وردیاں بھی پھاڑ دیں تھیں۔ جمعہ کو تقریبا ڈیڑھ بجے سیالکوٹ شہر میں شیعہ مسلک کی سب سے بڑی مسجد اور امام بارگاہ میں نماز جمعہ کےدوران میں دھماکہ سے کم سے کم پچس افراد ہلاک اور پچاس سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے تھے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ راجہ روڈ پر مصروف کاروباری اور رہائشی علاقہ میں واقع اس مسجد اور امام بارگاہ میں ، جسے مستری عبداللہ کی مسجد یا زینبیہ امام بارگاہ کہتے ہیں، جمعہ کی نماز ختم ہونے کے فوراً بعد ایک شخص ایک بریف کیس لے کر داخل ہوا اور جوں ہی اس نےبریف کیس کھولا دھماکہ ہوگیا۔ دھماکے کے وقت مسجد کا ہال نمازیوں سے بھرا ہوا تھا۔ اس میں تقریبا ایک ہزار لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور فرش میں ڈیڑھ فٹ گہرا اور دو فٹ چوڑا گڑھا پڑ گیا۔ مقامی پولیس کے ایس ایچ او آصف جوئیہ کا کہنا ہے کہ یہ خود کش دھماکہ تھا۔ اس جگہ سے ملنے والے ایک اور مشکوک بریف کیس کو بم ڈسپوزل اسکواڈ نے قبضہ میں لے لیا ہے۔ اس واقعہ کے بعد لوگوں نے مسجد کے باہر پولیس اور حکومت کے خلاف مظاہرہ کیا ، پولیس کی ایک گاڑی کو آگ لگادی اور پولیس پر پتھراؤ کیا۔ زخمیوں کو مقامی ہسپتالوں میں پہنچایا گیا ہے جہاں ضلعی ناظم نعیم جاوید کےمطابق ایمرجنسی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسجد کے باہر حفاظت کے لیے پولیس گارڈ تعینات تھے۔ ہسپتالوں میں خون دینے والے لوگوں کا بڑا ہجوم ہے اور ہسپتال کا عملہ مطلوبہ خون گروپ کا با آواز بلند اعلان کرکے لوگوں کو خون کا عطیہ دینے والوں کو بلا رہے ہیں۔ ہسپتالوں میں مرنے والوں اور زحمیوں کے رشتے دار اور دوست جمع ہیں۔ بہت سے لوگ دھاڑیں مار مار کر رو رہے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعت شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ امجد فاروقی جو دہشت گردوں کے نیٹ ورک کا بڑا آدمی تھا اس کی چند روز پہلے نواب شاہ میں ہلاکت کے بعد ردعمل کی توقع تھی اور یہ واقعہ بھی اس کا حصہ ہوسکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||