BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 03 September, 2004, 16:18 GMT 21:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فرقہ واریت: سید نور کی متنازع فلم

سید نور: فلم میں کوئی بات متنازع نہیں
سید نور: فلم میں کوئی بات متنازع نہیں
ہدایتکار سید نور کی شیعہ سنی فرقہ واریت کے موضوع پر بنائی گئی فلم ’’ہم ایک ہیں‘‘ ریلیز ہونے سے پہلے ہی متنازعہ ہوگئی اور اسے آج پروگرام کے مطابق نمائش کے لیے سنیما گھروں میں پیش نہیں کیا جاسکا۔

سید نور نے آج اس تنازعہ کے بارے میں لاہور میں ایک پریس کانفرنس کی اور کہا کہ فلمی صنعت کے کچھ لوگوں نے اس فلم کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلائی ہیں جس کا مقصد اس کی راہ میں روڑے اٹکانا ہے۔

سید نور کا کہنا تھا کہ سنسر بورڈ نے اس فلم کو دیکھا اور سب نے اس کی تعریف کی لیکن انہوں نے ایک فائل دکھائی جس میں وہ بے نام خطوط تھے جو اس فلم کے بارے میں انہیں ملے تھے اور جن میں اس فلم کے بارے میں غلط پراپیگنڈہ تھا کہ یہ فلم کسی ایک فرقہ کے خلاف ہے۔ سید نور کا کہنا تھا کہ دراصل ایسی کوئی بات نہیں۔

سید نور نے کہا کہ فلم کا مقصد فرقہ وارانہ ہم آہنگی بڑھانا ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ شیعہ اور سنی تو آپس میں رشتے دار ہیں اور دوست ہیں اور ان میں غلط فہمیاں پھیلانے والے باہر کے لوگ ہیں۔

تاہم سید نور نے کہا کہ ان خطوط کی وجہ سے سنسر بورڈ خاصا پریشان تھا اور اس نے اپنے ارکان کے علاوہ مختلف فرقوں کے آٹھ علمائے کرام کو بھی یہ فلم دکھائی جنہوں نے سورہ کوثر کی ایک قرانی آیت کی تفسیر پر اعتراض کیا اور فلم کے نام سات سو چھیاسی کے بارے میں کہا کہ اس کا مطلب بسم اللہ الرحمن الرحیم ہے اس لیے یا تو فلم سے گانے نکال دیے جائیں اور یا اس کا نام بدل دیا جائے۔

سید نور نے کہا کہ وہ علمائے کرام سے بحث نہیں کرسکتے تھے اس لیے انہوں نے ان کے اعتراض کو تسلیم کرلیا اور قرآنی آ یت کو فلم سے نکال دیا اور فلم کا نام تبدیل کرکے ’’ہم ایک ہیں‘‘ رکھ دیا۔

سید نور نے کہا کہ جو خطوط لکھے گۓ وہ کسی دہشت گرد تنظیم کی طرف سے نہیں تھے اور نہ ان میں کوئی دھمکی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے ان کی آنیوالی فلم کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلائی ہیں وہ فلمی صنعت کے ہی لوگ ہیں اور وہ انہیں پہچانتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان لوگوں نے سنیما مالکان کو بھی بے نام خطوط لکھے کہ وہ یہ فلم نہ چلائیں اور اگر چلائیں گے تو ان کے لیے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فلمی صنعت میں کچھ لوگ ایسی خط بازی کرتے رہتے ہیں اور اسی وجہ سے پاکستانی فلمی صنعت ان برے حالوں کو پہنچی ہے۔

سید نور نے کہا کہ کل ہفتہ کے روز سنسر بورڈ اس فلم کو دوبارہ دیکھے گا اور انہیں امید ہے کہ یہ نمائش کے لیے منظور کرلی جائے گی اور اب اسے عید الفطر کے روز نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد