| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور: شیعہ طلباء کا احتجاج
لاہور میں شیعہ طلباء نے پریس کلب کے سامنے کراچی میں سات افراد کے فرقہ وارانہ قتل کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ کیا ہے جس میں ٹائر جلائے گئے اور سڑک بلاک کردی گئی۔ شیعہ مسلک کی طلبا تنظیم امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے درجنوں کارکن شملہ پہاڑی چوک پر جمع ہوگئے اور انہوں نے کراچی میں سات شیعہ افراد کے قتل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان، امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعرے بازی شروع کردی۔ یہ پرجوش احتجاج تقریبا ایک گھنٹہ جاری رہا جس کے دوران پولیس اردگرد موجود رہی اور بعد میں مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن لاہور کے صدر سجاد حسین نے، جو مظاہرے کی قیادت کررے تھے، بی بی سی سے کہا کہ اس احتجاج کا مقصد حکومت کو یہ بتانا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔
انہوں نے کہا کہ انیس سو نوے سے اب تک تین ہزار شیعہ افراد فرقہ وارانہ دہشت گردی کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں جن میں سو سے زیادہ ڈاکٹر اور بتیس شیعہ وکلاء شامل ہیں۔ آرگنائزشن کے رہنما نے کہا کہ شیعہ ڈاکٹروں اور وکیلوں کی ٹارگٹ کِلنگ کے بعد اب کراچی میں شیعہ انجینیئروں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت نے دہشت گرد تنظیموں پر پابندی تو لگائی ہے لیکن انہیں کچلا نہیں ہے۔ شیعہ طلباء تنظیم کے رہنما کا کہنا تھا کہ جنرل مشرف کی حکومت ملک کے اندرونی معاملات پر توجہ نہیں دے رہی اور اس سے اپنا ملک سنبھالا نہیں جا رہا جبکہ دوسری طرف فوج کو عراق بھیجنے کی بات ہورہی ہے۔ ن کا کہنا تھا کہ جب تک حکومت دہشت گرد تنظیموں کے خلاف آپریشن کلین اپ شروع نہیں کرتی ایسے واقعات ہوتے رہیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||