ایک ہی خاندان کے چھ افراد قتل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
واردات بظاہر فرقہ وارانہ لگتی ہے۔ خاندان کا تعلق شیعہ مسلک سے تھا۔ تاہم پولیس ابھی کچھ کہنے سے انکار کررہی ہے۔ صبح سات بجے کے قریب پولیس اطلاع ملنے پر مغلپورہ (لال پل) کے قریب واقع جعفری پبلک اسکول کے مالک کے مکان میں داخل ہوئی تو وہاں تمام اہل خانہ سر میں گولیاں لگنے سے ہلاک پاۓ گۓ۔ مکان اسکول سے متصل ہے۔ جو لوگ قتل کیے گۓ ان میں اسکول کا مالک سجاد حیدر، اس کی بیوی صائمہ، اس کا بھائی نوید حیدر، اس کی بیوی ثوبیہ، ایک دس سال کی بچی غلام فاطمہ اور دس سال کی ملازمہ ثونیا شامل ہیں۔
سجاد کی لاش گیراج میں پڑی تھی اس کے ہاتھ اور منہ سکاچ ٹیپ سے باندھے گۓ تھے اور سر میں گولیاں لگی تھیں۔ اسی طرح کچھ لاشیں کمروں میں اور گھر کے لان میں پڑی تھیں۔ کمرو ں میں اسپرے پینٹ سے کافر کافر کے نعرے درج تھے۔ صبح جب پولیس پہنچی تو لاشوں سے نکلا ہوا خون کچھ جما ہوا تھا اور کچھ بہ رہا تھاجس سے اندازہ لگایا جارہا تھا کہ واردات صبح کے ابتدائی اوقات میں کی گئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||