فرقہ پرستی کا بم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں گزشتہ ایک ہفتے میں دو دھماکے ہوئے۔ ایک گوادر میں جس کے نتیجے میں تین چینی انجنیئر ہلاک ہو گئے جو گوادر کی بندرگاہ کی توسیع کے منصوبے پر کام کر رہے تھے۔ دوسرا دھماکہ کراچی میں ایک شیعہ مسجد میں اس وقت ہوا جب لوگ جمعہ کی نماز کے لئے جمع تھے اس کے نتیجے میں پندرہ افراد ہلاک اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہوئے۔ کسی کا قول ہے کہ سیلاب ، آندھی طوفان اور دوسری قدرتی آفات سے عمارتوں اور شہروں کو نقصانات پہنچے ہیں لیکن وہ نقصان جو انسان نے مذہبی تعصب اور نسلی اور گروہی منافرت کی بنیاد پر ایک دوسرے کو پہنچایا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی موجودہ صورتحال پر یہ قول صادق آتا ہے۔ یہ ایک ایسی صورتحال ہے جو ہر اس قوم کے لئے انتہائی شرمناک ہے جو اپنے آپ کو متمدن کہتی ہے یا کہلانے کا مستحق سمجھتی ہے۔ اس کی وجہ میری نظر میں یہ ہے کہ پاکستان میں ابتدا سے ہی جمہوری عمل کو فروغ دینے کے بجائے اس کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، جبکہ یہ جمہوری عمل ہی ہوتا ہے جو معاشرے کے مختلف طبقات کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے اور ایک قومی ہم آہنگی پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔ اس صورتحال کا جو منطقی نتیجہ نکلنا تھا وہ نکلا۔ جناح صاحب نے جو یقین دہانی کرائی تھی کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں سیاسی اعتبار سے نہ کوئی ہندو رہےگا نہ مسلمان بلکہ سب پاکستان کے شہری ہونگے ، وہ گاؤ خورد ہو گئی اور مولوی نے، جس کی حیثیت بقول علامہ اقبال دو رکعت کے امام سے زیادہ نہیں تھی، نہ صرف اسلام کی تعریف اور تشریح کا بیڑا اٹھا لیا بلکہ پاکستان کے مقصد اور مطلب کی تشریح بھی اپنے ہی ذمے لے لی اور پورے ملک میں کافر سازی کے کارخانے قائم کر لئے۔ کسی کی داڑھی چھوٹی ہوئی تو کافر ، کسی کی بڑی نکلی تو کافر، کوئی پاجامہ یا شلوار اٹنگی پہننے کے جرم میں کافر بنا، کوئی لمبی شلوار پہننے کی بناء پر کافر قرار پایا یہاں تک کہ مسجدیں بھی شیعہ، سنی، دیو بندی، وہابی اور بریلوی میں تقسیم ہو گئیں۔ میں ایسے بہت سے لوگوں سے واقف ہوں جو مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے کے باوجود آپس میں شادی بیاہ بھی رچاتے رہے ہیں اور ہنسی خوشی زندگی بھی گزارتے رہے ہیں۔ انہیں کبھی اپنے مذہبی عقائد کی بنیاد پر ایک دوسرے سے شکایت پیدا نہیں ہوئی اور پیدا بھی ہوئی ہوگی تو اس انتہا کو شاید کبھی نہیں پہنچی کہ ایک دوسرے کو قتل کر دیتے۔ نہ صرف یہ بلکہ ان کی اولاد کو بھی یہ مشکل پیش نہ آئی کہ وہ اپنے آپ کو کیا کہے۔ میری جا ننے والی ایک خاتون تھیں جو خود سنی تھیں اور ان کے شوہر شیعہ لیکن دونوں کے درمیان ان کے مذہبی عقائد کی بنیاد پر کوئی چپقلش پیدا ہوتے میں نے نہیں دیکھی۔ ان کے یہاں میلاد بھی ہوتا تھا اور مجلس بھی۔
مذہبی تنگ نظری اور منافرت کی موجودہ شکل میرے نزدیک پاکستان کے بعد کی پیداوار ہے اور اس میں بھی عام آدمی، وہ شیعہ ہو یا سنی شریک نہیں ہوا ہے۔ کچھ فاشسٹ تنظیمیں ہیں جو اس قتل و غارت گری میں مزہ لیتی ہیں بلکہ اسی کی بنیاد پر زندہ ہیں۔اور وہ بھی میرا خیال ہے کہ شہروں ہی کی حد تک محدود ہیں۔ اس لئے کہ میں ایک زمانے میں پاکستان کی مذہبی اقلیتوں پر پروگرام بنا رہا تھا۔ اس سلسلہ میں میں نے پاکستان کے جتنے گردواروں کا دورہ کیا ان میں سے بیشتر کے گرنتھیوں کا تعلق صوبہ سرحد کے قبائلی علاقے سے تھا اور جب میں نے ننکانہ صاحب کے ایک سکھ دکاندار سے اس کی وجہ دریافت کی تو اس نے کہا کہ شہروں کے سارے سکھ تو تقسیم کی وقت ہندوستان چلے گئے چنانچہ قبائلی علاقوں میں جو سکھ رہ گئے تھے انہوں نے ان کی جگہ لے لی۔ اور جب میں نے دریافت کیا کہ قبائلی علاقوں میں تقسیم کے وقت فسادات نہیں ہوئے تو اس نے کہا کہ وہاں کی روایات اور قدریں شہروں کے مقابلے میں مختلف ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ کم از کم مذہبی رواداری کے سلسلے میں قبائلی علاقوں کی ہی روایات اور قدروں کو اپنا لیا جائے۔ ایک اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس ملک کو وجود میں آئے ہوئے اب 57 سال ہونے کو آئے ہیں۔ اس عرصے میں ہر حکومت نے اپنے سیاسی مخالفین کو مقید کیا، جلاوطن کیا یہاں تک کہ پھانسی پر بھی لٹکا دیا گیا۔ان پر غداری اور ملک دشمنی کے بیہودہ اور مکروہ الزامات بھی عائد کئے۔ اخبار بھی بند کئے گئے، صحافیوں کو بھی قید و بند کی صعوبتیں جھیلنی پڑیں، بعضوں کو کوڑے بھی لگائے گئے لیکن فرقہ پرستوں کو کبھی ہاتھ لگانے کی کسی میں جرات نہیں ہوئی۔ اس سے ایک ہی نتیجہ برآمد کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ کہ ان عناصر کو ملک کے کسی ایسے طبقے کی سرپرستی حاصل رہی اور ہے جو حکومت سے بھی زیادہ طاقتور ہے یا پھر موجودہ حکومت ہو یا اس سے پہلے جو گزری ہیں، ان کے نزدیک اس لعنت کو اتنی اہمیت ہی حاصل نہیں ہوسکی کہ یہ اس کے سدباب کی جانب توجہ کرتیں۔ صدر پرویز مشرف صاحب جب اقتدار میں آئے تھے تو ایک امید پیدا ہوئی تھی کہ ملک میں جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں جس ملائیت نے فروغ پایا ہے اس کا اگر قلع قمع نہیں کریں گے تو کم از کم اس کو اپنی حدود میں رہنے پر تو مجبور کر ہی دیں گے۔ لیکن اب ان کی حکومت کو بھی ماشاء اللہ پانچ سال ہونے کو آئے ہیں۔ اس عرصے میں انہوں نے اپنے سیاسی حریفوں کو تو بظاہر زیر کرلیا ہے۔ لیکن فرقہ پرستی اور مذہبی تعصب سے ملک کو نجات دلانے میں کچھ نمایاں کامیابی حاصل نہیں کر سکے۔ اگر وہ اس جانب سنجیدگی سے توجہ کریں تو میرا خیال ہے کہ پاکستانیوں کی خاموش اکثریت بھی جو ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کے مصداق منقار زیر پر کئےڈری سہمی بیٹھی ہوئی ہے شاید اس نیک کام کے لئے ان کی حمایت میں نکل آئے ۔ اس لئے کہ ایک عام آدمی روکھی سوکھی کھا کر تو گزارہ کر سکتا ہے لیکن اس مسلسل خوف میں زندگی نہیں گزار سکتا کہ کہیں کوئی اسے کافر قرار دے کر نہ ہلاک کردے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||