کراچی مسجد میں دھماکہ:15ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کی مصروف شاہراہ لیاقت پر واقع ایک مسجد میں بم دھماکہ سے پندرہ افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ دھماکہ تاریخی سندھ مدرستہ الاسلام کے احاطے میں واقع شیعہ مسّلک کی مسجد حیدری میں کیا گیا۔ مسجد کی پانچویں صف میں دھماکہ اس وقت ہوا جب جماعت کھڑی ہونے والی تھی۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ پوری مسجد میں خون بکھرا ہوا تھا اور انسانی جسم کے اعضاء کے ٹکڑے مختلف جگہ پر بکھرے ہوئے تھے۔ سندھ کے وزیرِداخلہ آفتاب شیخ نے کہا کہ خدشہ ہے یہ خودکش حملہ ہے۔اس مسجد میں زیادہ افراد ہونے کی وجہ یہ تھی کہ جمعہ کے روز تمام دفاتر کے لوگ اسی مسجد میں نماز پڑھتے ہیں۔ زخمیوں کو جائے وقوع سے طبی امداد دینے کے لئے فوراً سول اسپتال پہنچایا گیا جہاں کے تمام میڈیکل وارڈ خالی کرالئے گئے۔زخمیوں کی حالت کافی نازک بتائی جاتی ہے۔ اسپتال کے انچارج ڈاکٹر نے تصدیق کی ہے کہ اب تک نو افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ زخمیوں کو اسپتال پہنچانے والے چِھپا ویلفئیر کے رضا کار نے بی بی سی کو بتا یا کہ ’زخمیوں کی حالت ابھی تک خراب ہے کچہ نہیں کہا جاسکتا کہ کچھ دیر بعد کی صورتحال کچھ اور ہو۔‘ اطلاعات کے مطابق اسپتال کےباہر لوگ چلا رہے تھے اور لوگ ادھر سے اُدھر بھاگ رہے تھے کیونکہ اسپتال میں اتنے لوگوں کی ایک وقت میں طبی امداد دینے کا کوئی مناسب بندوسبت نہیں ہے۔ ایدھی فاؤنڈیشن کے رضاکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سول میں زخیموں کی تعداد زیادہ ہونے کے بعد اب ہم کچھ زخمیوں کو شہرکے دوسرے اسپتالوں میں منتقل کررہے ہیں۔‘ لوگوں کی مددکے لئے آنے والےعمران نے بتایا کہ ’جب میں یہاں پہنچا تو زخمی ادھر اُدھر پڑےہوئے تھے اور چلا رہے تھے اور بس خون ہی خون نظر آرہا تھا۔‘ مسجد میں بچھی ہوئئ دریاں خون سے لال ہوئی ہیں۔ جائے وقوع پر جب پولیس اہلکار اپنی گاڑیوں میں پہنچے تو مشتعل لوگوں نے ان کی گاڑیوں پر پھتراؤ بھی کیا۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ مسجد کی چوبیس فٹ اونچی چھت کا یہ حال ہے کہ وہ اب کسی بھی وقت گر سکتی ہے اور کہیں کہیں سے گرچکی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||