کراچی میں دوسرے دن بھی ہنگامے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں گزشتہ روز امام بارگاہ پر خود کش حملے میں ہلاک ہو جانے والوں کی نمازِ جنازہ کے موقع پر شہر میں ایک مرتبہ پھر ہنگامے شروع ہوگئے ہیں اور شہر میں مختلف جگہوں سے فائرنگ کی اطلاعات آ ئی ہیں۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق سیکنڑوں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں ہیں اور مظاہرین کی طرف سے توڑ پھوڑ کے بعد کشیدگی، ہنگامہ آرائی کی صورت اختیار گئی۔ یہ ہنگامے ہلاک شدگان کی نمارِجنازہ کے بعد اس وقت شروع ہوئے جب ہلاک ہونے والوں کو ہزاروں افراد کے جلوس میں تدفین کے لے جایا جا رہا تھا۔ پولیس نے بظاہر شرکاء کی بڑی تعداد کو کم کرنے کے لئے آنسو گیس کے گولے پھینکے جس کے بعد مشتعل افراد نے ایم اے جناح روڈ پر واقع ریسٹورینٹ کو آگ لگادی اور وہاں سے گزرنے والی کچھ گاڑیوں کو بھی نذرآتش کردیا۔ کچھ دکانوں پر بھی حملہ کیا گیا۔ شہر میں سخت کشیدگی ہے اور ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ تمام اہم مارکٹیں اور بازار بند ہیں۔ آج صبح بھی کچھ مزید گاڑیاں جلادی گئی تھیں اور متعدد سڑکوں پر ٹائر بھی جلائے گئے۔ کل رات گئے تک شہر میں ہنگامے جاری رہے اور تقریباً اٹھارہ گاڑیاں جلا دی گئی تھیں۔ اس کے بعد صورتحال کچھ قابو میں آگئی تھی مگر آج صبح پھر بعض علاقوں میں ہنگامہ آرائی ہوئی۔ اطلاعات کے مطابق منگل کی صبح ہی سے پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر تھی اور ٹریفک بہت کم تھی۔ مختلف دفاتر اور بینکوں میں حاضری کم رہی۔ کراچی میں ہونے والے انٹر بورڈ اور کراچی یونیورسٹی کے امتحان ملتوی کردیئے گئے ہیں۔ گزشتہ روز بم دھماکے کے بعد کہا جا رہا تھا کہ یہ خودکش حملہ ہے مگر منگل کی صبح پولیس کے ایک اعلٰی اہلکار کے مطابق منظور مغل نے بتایا کہ اب تک ہونے والی تحقیقات کے مطابق اس بات کے زیادہ شواہد ملے ہیں کہ یہ ایک خودکش بم حملہ ہے۔ ہسپتالوں میں ابھی تک بہت سے زخمیوں کی حالت نازک ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||