BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 May, 2004, 16:25 GMT 21:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکومتی دعوؤں کی قلعی کھل گئی

کراچی دھماکے
جمعرات کو ہونے والے دو بم حملوں میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور تیس دیگر افراد زخمی ہوئے
کراچی میں بدھ کو ہونے والے دو کاربم دھماکوں کی تحقیقات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

البتہ پولیس نے ایک چھینی ہوئی کار کے مالک کی مدد سے ملزمان کے دو خاکے تیار کئے ہیں۔

اہم انتہائی محفوظ علاقے میں یِکے بعد دیگرے دو بم دھماکوں نے شہر میں حفاطتی انتظامات کے حکام کے دعووں کی قلعی کھول دی ہے، اور یہاں یہ تاثر عام ہے کہ انتہا پسند جب اور جہاں چاہیں واردات کرسکتے ہیں۔

انتہائی محفوظ اور امریکی قونصل جنرل کی رہائش گاہ والی سڑک فاطمہ جناح روڈ پر دو کاربم دھماکوں میں استعمال ہونے والی ایک کار واردات سے چند گھنٹے پہلے چھینی گئی تھی، جبکہ ایک دوسری کار اس کے مالک نے تھوڑی ہی دیر پہلے سڑک پر کھڑی کی تھی اور وہ خود پاکستان امریکن کلچرل سینٹر میں موسیقی کی کلاس لینے چلے گئے تھے۔

ملزمان نے اسی دوران ایک کار میں کوئی دھماکہ خیز مواد لگایا اور دوسری چھینی ہوئی کار میں زیادہ طاقت کا بم لگا کر اسے قریب ہی کھڑا کردیا۔

دونوں کاریں کوئی پچیسں تیس منٹ کے وقفے سے دھماکوں سے اڑگئیں۔ حکام نے دوسری کار کے مالک کی مددسے کار چھین نے والے ملزمان کے خاکے تیار کرلئے ہیں مگر ابھی تک کوئی گرفتار نہیں کیا جاسکا ہے۔

حکومت نے ملزمان کی گرفتاری میں مدد کے لئے دس لاکھ روپے کے انعام کا اعلان بھی کیا ہے۔

تاہم یہ امکان کہ ملزمان کو جلدہی گرفتار کرلیا جائے گا فی الحال نظر نہیں آتا کیونکہ کراچی میں ہونے والے بم دھماکوں میں سے چند ایک کے ملزمان ہی اب تک گرفتار کئے جاسکے ہیں۔ مگر ان ملزمان کی گرفتاری سے زیادہ اہم معاملہ یہ ہے کہ پولیس اور نیم فوجی رینجرز اس طرح کی وارداتوں کو روکنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔

مصروف علاقوں میں تو دھماکہ خیز مواد سے بھری کار یا موٹر سائیکل کھڑی کرنا تو نسبتاً آسان ہوتا ہے مگر ایک ایسی سڑک پر دو کاروں میں بم لگانا جہاں حفاظتی انتظامات بہت سخت بتائے جاتے ہوں۔ ان انتظامات کی ناکامی کی دلیل ہیں۔

اس سڑک پر رکاوٹیں کھڑی ہیں وہاں پولیس والے تعینات ہیں اور ان کی چیکنگ کے بعد ہی گاڑیوں کو آگے جانے دیا جاتا ہے۔

ان دھماکوں کے بعد لگتا ہے کہ حفاطتی اتنظامات اور چیکنگ برائے نام ہیں اور ان سے کوئی خاص فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔

تحقیقاتی حکام کا یہ کہنا کہ مقناطیس کے ساتھ کسی نے پہلی کار میں بم لگایا اس بات کو اور واضح کرتا ہے کہ نگرانی کا نظام زیادہ موثر نہیں ہے۔

دوسری کار پر سرکاری نمبر پلیٹ لگی تھی جوجعلی تھی اور چوری کی اطلاع کے باوجود موقع پر موجود حکام پچیس تیس منٹ تک یہ پتہ نہیں چلا سکے کہ یہ نمبر جعلی ہے اور اس ماڈل کی کار کا نہیں ہے۔ اس لئے دوسرے دھماکے سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے اور ایک پولیس والا ہلاک بھی ہوگیا۔

ان دھماکوں اور بعد میں گرومندر پر جعلی بم دھماکے اور وہاں بڑی تعداد میں ایمبولینسوں اور رینجرز کی آمداور افرا تفری سے شہر میں خوف و ہراس کی فضا میں اضافہ ہوا۔

حکام کو یہ پتہ کرنے میں خاصی دیر لگی کہ وہاں کوئی بم دھماکہ نہیں ہوا۔ ان حالات میں مبصرین کا کہنا ہے کہ انتہا پسندوں نے شہر کی انتظامیہ کو ہلا کر رکھ دیا ہے کہ وہ جب اور جہاں چاہیں واردات کرسکتے ہیں، افراتفری پھیلا سکتے ہیں اور حکام انہیں روکنے میں مکمل ناکام رہتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد