امریکن سنٹر کے باہر بم دھماکے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں امریکن سنٹر کے باہر دو کار بم دھماکوں میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور کم از کم 25 دیگر افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق فاطمہ جناح روڈ پر واقع امریکن کلچرل سنٹر کے قریب ہی پارک کی گئی ایک کار اچانک دھماکے سے تباہ ہو گئی۔ اس کے چند منٹ بعد قریب کھڑی ہوئی ایک اور کار بھی دھماکے اڑ گئی۔ پولیس کے مطابق دوسرا دھماکہ پہلے دھماکے سے زیادہ شدید تھا اور یہ ایک ایسی وقت ہوا جب پولیس پہلے ہی علاقے کو گھیرے میں لے کر پہلی کار کے ملبے کی تلاشی لے رہی تھی۔ دھماکہ امریکن قونصل جنرل کے گھر سے سو میٹر دور اور امریکن قونصلیٹ سے دو سو میٹر دور ہوا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکوں میں زخمی ہونے والوں میں کئی پولیس اہلکاروں اور صحافی بھی شامل ہیں۔ اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار پال اینڈرسن کا کہنا ہے کہ پہلی کار پر سرکاری نمبر پلیٹ لگی ہوئی تھی جس کی وجہ سے اس پر کوئی شک نہیں کیا گیا۔ دھماکے سے کلچرل سنٹر کی بیرونی دیوار کو نقصان پہنچا ہے۔ دھماکے کے وقت پاکستانی طلبہ وہاں انگریزی زبان کی کلاس لے رہے تھے۔ پولیس تیسری مشتبہ کار کی بھی تلاش کر رہی ہے۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ دھماکوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ اس سے پہلے منگل کے روز بھی کراچی بندرگاہ پر ایک بم دھماکہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور دو زخمی ہوئے تھے۔
منگل کے روز ہونے والے دھماکے کے بعد کراچی میں سکیورٹی سخت کر دی گئی تھی اور پولیس نے شہر کے مختلف علاقوں میں گاڑیوں کی چیکنگ شروع کر دی تھی۔ پاکستان کے وزیرِ اطلاعات شیخ رشید احمد نے دھماکوں کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ پاکستان کے دشمنوں نے کروائے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||