کراچی دھماکوں کا سراغ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں پولیس نے کلوز سرکٹ ٹی وی سے دو لوگوں کی ایسی تصاویر حاصل کی ہیں جن میں وہ بدھ کو ہونے والے بم دھماکوں میں استعمال ہونے والی ایک کار پر کچھ لگاتے نظر آرہے ہیں۔ تاہم باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ تصاویر اتنی واضح نہیں ہیں کہ آسانی سے ملزمان کی شناخت ہوسکے۔ ادھر حکام نے حفاظتی ڈیوٹی پر تعینات پانچ پولیس اہلکاروں کو فرائض سے غفلت برتنے کے الزام میں گرفتارکرلیا ہے اور انہیں جیل بھیج دیا گیا ہے۔ ان کار بم دھماکوں سے ایک پولیس کانسٹیبل ہلاک اور تیس سے زائد لوگ زخمی ہوگئے تھے۔ انتہائی محفوظ علاقے میں بدھ کو ہونے والے دو کاربم دھماکوں کی تحقیقات میں اب تک حکام کے مطابق یہ پیش رفت ہوئی ہے کہ ایک سرکاری اعلٰی افسر کے گھر پر لگے ہوئے کلوز سرکٹ ٹی وی کیمرہ سے دو لوگوں کو دھماکے میں استعمال ہونے والی کار پر کوئی چیز رکھتے ہوئے دیکھا جاسکا ہے۔ وڈیو میں یہ لوگ ایک موٹر سائیکل پر آتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔ تحقیقاتی افسران کا کہنا ہے کہ یہ فلم اس کار کے مالک کو دکھائی جائی گی جس سے دھماکہ میں استعمال ہونے والی دوسری کار دھماکہ سے چند گھنٹے پہلے چھینی گئی تھی۔ مگر باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ وڈیو میں ملزمان کے چہرے واضح نہیں ہیں، اس لئے شاید یہ ممکن نہیں ہوسکے گا کہ اس کی مدد سے ملزمان کی شناخت ہوسکے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ دھماکے میں استعمال ہونے والی دوسری کارمیں زیادہ طاقت کا بم اور ٹائمر لگایا گیا تھا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کارروائی کسی اور جگہ کی گئی اور بعد میں گاڑی وہاں لاکر کھڑی کردی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وڈیو کے مطابق ایک کار پر دھماکہ خیز مواد موٹر سائیکل پر سوار دو لوگوں نے لگایا ہے تو کوئی اور دوسری کار وہاں کھڑی کرکے فرار ہوگیا ہوگا۔ اس شخص کے بارے میں کوئی شہادت پولیس کے ہاتھ نہیں لگی ہے اور نہ کیمرے میں تیسرا شخص نظر آرہا ہے۔ پولیس حرکت المجاہدین العالمی نامی ممنوعہ تنظیم کو ان دھماکوں میں ملوث بتارہی ہے۔ اس تنظیم پر جون 2002 میں امریکی قونصل خانے پر خودکش بم حملے اور صدر پرویز مشرف پر ناکام قاتلانہ حملہ کا الزام ہے اور اس کے کئی لوگ حال ہی میں گرفتار کئے گئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||