کراچی میں ہڑتال، فائرنگ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ضمنی انتخابات کے موقع پر سات افراد کی ہلاکتوں کے سبب متحدہ مجلسِ عمل کی ہڑتال کی اپیل پر کراچی میں تمام چھوٹے بڑے بازار بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک معطل رہی۔ ہڑتال کے موقع پر مختلف واقعات میں ایک پولیس اہلکار سمیت پانچ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ بلدیہ ٹاؤن کے علاقے میں سڑکوں پر ٹائر جلائے گئے اور سڑک پر چلنے والی گاڑیوں کو توڑا پھوڑا گیا۔ پولیس نے مشتعل افراد کو منتشر کرنے کے لئے شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کی جس پر انہوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔ شہر میں کاروبار زندگی معطل ہے اور پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے جس کے باعث عام افراد کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ بہت سے افراد کراچی سے حیدرآباد جانے والی مین سپر ہائی وے یا شاہراہ پاکستان پر دھرنا دیکر بیٹھ گئے جس کے بعد شہر سے باہر جانے والا ٹریفک بھی معطل ہوگیا۔
مشتعل افراد نے سڑک کو ٹائر جلا کر بند کردیا تھا، پولیس اور رینجرز کے اہکاروں نے سڑکوں پر نکلے ہوئے لوگوں پر شیلنگ کی اور انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی۔ لیاقت آباد، ملیر، کورنگی، راشد منہاس روڈ، بنارس چوک اور بہت سے علاقوں میں صبح ہی سے ٹریفک کو روکنے کے لئے سڑکوں پر ٹائر جلا دئیے گئے تھے۔ امدادی کارروائی کرنے والے ایدھی کے رضاکار رضوان ایدھی نے بتایا کہ اِن کی ایمبولینس کو بھی توڑا گیا ہے، اور اِنہیں زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ ڈی آئی جی کراچی طارق جمیل نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر میں چند علاقوں میں سخت مزاحمت کا سامنا ہے جبکہ شہر کے باقی علاقے پرُامن ہیں۔ جماعتِ اسلامی کے نشر و اشاعت کے انچارج سرفراز احمد نے الزام لگایا کہ مخالف جماعت کے کارکن، لوگوں کو گھر سے نکالنے کے لئے زبردستی کر رہے ہیں جبکہ عوام نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ہمارے ساتھ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہڑتال پُرامن رہی ہے مگر کہیں کہیں پولیس کی زیادتیوں کے بعد پتھراؤ بھی کیا گیا ہے۔ متحدہ مجلس عمل نے گزشتہ روز اپنے کارکنوں کی نمازِ جنازہ کے موقع پر ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔ بدھ کو ہونے والے ضمنی انتخابات کے موقع پر متحدہ مجلس عمل کے سات افراد مختلف علاقوں میں فائرنگ سے ہلاک ہوگئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||