BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 13 May, 2004, 15:02 GMT 20:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مجلس کی طرف سے ہڑتال کا اعلان

کراچی
کراچی میں ہونے والی نماز جنازہ
کراچی میں متحدہ مجلس عمل نے اپنے سات کارکنوں کی ہلاکت کے بعد جمعرات کو نمازِ جنازہ پر جمعہ کو ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

بدھ کو شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ سے متحدہ مجلس عمل کے سات اور متحدہ قومی موومنٹ کے دو کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔

جنازے کے شرکاء بہت مشتعل نظرا آرہے تھے، انہوں نے پولیس، رینجرز اور حکومت کے خلاف نعرے بھی لگائے۔

جنازے میں شریک لوگ جب نماز پڑھنے کی تیاریاں کررہے تھے اسی وقت چند نامعلوم افراد نے جنازے کے شرکا پر فائرنگ بھی کی۔

چند شرکاء نے مشتعل ہوکر سڑکوں پر ٹائر جلائے اور گاڑیوں کے شیشے بھی توڑے مگر بعد میں متحدہ مجلس عمل کے ممبر صوبائی اسمبلی نصر اللہ شجیح نے تمام لوگوں سے پر امن رہنے کی اپیل کی۔

کراچی میں کل ضمنی انتخابات کے بعد سے چار گاڑیوں کو نذرِآتش کیا جاچکا ہے جبکہ بیس سے زائد گاڑیوں کی توڑ پھوڑ بھی کی گئی ہے۔

صبح ہی سے پولیس اور رینجرز نے حفاظتی انتظامات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بھاری دستے مختلف مقامات پر تعینات کردیے تھے۔

گورنر ہاؤس جانے والی سڑک کو پولیس نے واٹر ٹینکر اور ٹرالر کھڑے کے کر بند کروادیا تھا۔

شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ، ہلاکتوں، توڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی کے بعد سندھ کے وزیراعلٰی سردار علی محمد خان مہر نے دو ٹاؤن پولیس آفیسروں کو معطل کردیا ہے۔

ان میں لیاقت آباد اور بلدیہ ٹاؤن کے پولیس آفیسر شامل ہیں۔کیونکہ ان ہی دو علاقوں میں زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں ، معطلی کا فیصلہ امن وامان کے حوالے سے ہونےوالے ایک اجلاس میں کیا گیا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد